Sunday, 07 January, 2007, 14:03 GMT 19:03 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں قبائلی جرگے کی جانب سے ونی کی گئی لڑکی کو بھائیوں نے مخالف فریق کے حوالے کرنے سے انکار کرتے ہوئے بہن کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
اتوار کے روز مہمند ایجنسی کے تحصیل پنڈیالی میں قبائلی عمائدین کا ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں دونوں خاندانوں کے مابین جائداد کے تنازعہ پر چھ سال سے جاری خاندانی دشمنی کے خاتمے کے لیے ایک فریق کی پندرہ سالہ لڑکی تہمینہ کو قبائلی رسم سورہ یا ونی کے تحت مخالف فریق کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیاگیا ۔ تاہم ونی کی گئی لڑکی کے بھائیوں عرفان اللہ اور فرمان اللہ نے جرگے کا فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے بہن کو کسی نامعلوم مقام پہنچا دیا ہے۔
لڑکی کے بھائی عرفان اللہ نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ’ ہم بھائیوں نے جرگہ کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا ہے کیونکہ یہ ایک غیر اسلامی اور غیر قانونی رسم ہے۔‘
![]() | |
| ونی کے خلاف غیر سرکاری تنظیمیں مظاہرے کرتی رہتی ہیں |
انہوں نے کہا کہ جرگے کے فیصلے کے فوری بعد انہوں نے اپنی بہن تہمینہ کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
عرفان اللہ کے بقول ان کے والد نے ان کی بہن کو ونی کرنے کے متعلق قبائلی جرگے کا فیصلہ قبول کیا ہے۔
عرفان اللہ ٹیلی فون پر بات کرتے وقت خوف زدہ تھا ۔ انہوں نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ان کی اور بہن کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
پندرہ سالہ تہمینہ نویں جماعت کی طالبہ ہے۔ مقامی اخبارات میں عرفان اللہ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اس کی بہن تہمینہ نے دھمکی دی ہے کہ سورہ یا ونی کرنے کی صورت میں وہ خودکشی کر لے گی۔