Sunday, 07 January, 2007, 08:15 GMT 13:15 PST
صوبہ سرحد کے علاقے کرک میں حکمراں جماعت مسلم لیگ قائد اعظم کی ایک تقریب سے صدر جنرل پرویز مشرف کے خطاب کے بعد عوامی حلقوں میں ان کے سیاسی کردار پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اپنے خطاب میں صدر مشرف نے کہا ہے کہ اگر ان کے حامیوں کو آئندہ انتخابات میں منتخب نہ کیا گیا تو ملک اندھیروں کا شکار ہوجائے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر کی تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ق) کی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری کنور دلشاد سے جب پوچھا گیا کہ کیا صدر کی یہ تقریر کسی قائدے یا ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں، توانہوں نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سب باتیں سیاسی باتیں ہیں اور وہ ان پر کوئی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ’یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے زمرے میں نہیں آتا‘۔
دوسری جانب حکومت کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ صدر کا کسی بھی سیاسی جماعت کے جلسے سے خطاب کوئی قابل اعتراض عمل نہیں۔
ان کا کہنا تھا ’بنیادی طور پر یہ تصور ہی غلط ہے کہ صدر پاکستان کا عہدہ سیاسی وابستگیوں سے بالا ہے۔ صدر کا انتخاب ایک سیاسی عمل کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ یہاں برطانیہ کی بادشاہت تو نہیں ہے کہ بادشاہت کا سلسلہ جاری رہے۔ جہاں تک ہمارے صدر کا تعلق ہے تو وہ ملک کے سیاسی نظام کے معمار بھی ہیں‘۔
![]() | |
| ’آئندہ انتخابات میں مشرف پاکستان مسلم لیگ کے ہی امیدوار ہوں گے‘ |
اس بارے میں اسلام آباد میں موجود سیاسی تجزیہ کار ایاز امیر کا کہنا تھا کہ صدر پر کوئی قانونی روک نہیں ہے کہ وہ کسی سیاسی جلسے سے خطاب نہ کریں۔ یہ ایک اخلاقی قدغن ہے۔ ویسے بھی پاکستان میں جس آئین کے تحت صدر آتے ہیں یا جس آئین کے تحت وہ منصب صدارت پر قبضہ کرتے ہیں، اس کے بعد تو یہ بات مضحکہ خیز لگتی ہے کہ آیا وہ کسی جلسے سے خطاب کرسکتے ہیں یا نہیں۔ ہمیں بڑے تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ کس قانون یا آئین کی عملداری ہورہی ہے‘۔
’پاکستان میں تو آئین کے بارے میں آج کل ایسی ایسی باتیں ہورہی ہیں جو اس سے پہلے نہیں ہوئیں۔ کہا جارہا ہے کہ صدر ان ہی اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہوں گے کیونکہ اسمبلیوں کی مدت انتخابات تک ختم نہیں ہورہی۔ آئین ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ آئین کی ’اتنی پاسداری‘ تو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی‘۔