Friday, 05 January, 2007, 04:07 GMT 09:07 PST
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور افغاسنتان کے صدر حامد کرزئی نے جمعرات کو کابل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطابت کرتے ہوئے افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے منصوبے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
پاک افغان رہنماؤں کی اس ملاقات کے بارے میں افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دورہ کامیاب نہیں ہو سکا اور اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
یوسف زئی نے ایک کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ باڑ لگانے یا بارودی سرنگیں بچھانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی حکومت، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی تسلی کے لیے یہ اقدام کر رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ افغان حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہے اور شاید امریکہ سمیت اس کے مغرب میں حامی ممالک بھی چاہتے ہیں کہ باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی بجائے پاکستان اپنی حدود میں طالبان کے خلاف اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ افغاسنتان کی حکومت اگر اپنے موقف پر قائم رہتی اور پاکستان بھی باڑ لگانے پر اصرار کرتا ہے تو اختلافت مزید بڑھیں گے، باڑ لگاتے وقت سرحدی علاقوں میں مشکلات پیدا ہوں گی اور اس کا اظہار بھی ہو گا۔ ’صرف افغان حکومت نہیں بلکہ سرحد کے آس پاس رہنے والے قبائل بھی اس کی مخالفت کریں گے اور شاید اس فیصلے کے اوپر عمل درآمد مشکل ہوگا‘۔
ایک سوال کے جواب میں کہ جب افغان حکومت کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ کابل کے ایک مخصوص علاقے تک محدود ہے تو کیا وہ پاکستان پر اس معاملے میں دباؤ ڈالنے میں حق بجانب ہے یوسف زئی نے کہا کہ ’پاکستان پر اس طرح کی الزام تراشی اس بات کا اظہار ہے کہ افغان حکومت خود بے بس ہے اور کچھ کر نہیں پا رہی اور اس کا انحصار غیر ملکی فوجوں کی امداد کے اوپر ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ بالآخر افغان حکومت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہیں اپنی فوج بنانی ہوگی اور وسائل میں اضافہ کرنا پڑے گا پھر ان کی مشکلات آسان ہوں گی۔