Friday, 05 January, 2007, 03:13 GMT 08:13 PST
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کابل میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد دونوں طرف کے ناپسندیدہ عناصر کی آمد و رفت کو روکنا ہے۔ صدر حامد کرزئی نے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دہشت گردی تو نہیں رکے گی لیکن دو اقوام تقسیم ہو جائیں گی۔
صدر کرزئی نے کہا کہ پاکستان کو ’طالبان دہشت گردی‘ روکنے کے لیے اپنی سر زمین پر تربیتی مراکز ختم کرنا ہوں گے۔
صدر کرزئی نے وزیر اعظم شوکت عزیز سےجمعرات کی ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی طرف ایک ضروری قدم قرار دیا۔
صدر کرزئی نے کہا کہ باڑ شدت پسندوں کو سرحد پار کرنے سے نہیں روک سکے گی لیکن اس سے پشتون قبائل اور خاندان تقسیم ہو جائیں گے۔
بی بی سی کے ڈین آئزک نے کہا کہ وزیر اعظم عزیز نے واضح کیا کہ پاکستان باڑ لگانے کا مکمل ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خیال میں مخصوص مقامات پر باڑ لگانے اور باروی سرنگیں بچھانے سے مطلوبہ مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔‘
شوکت عزیز جمعرات کو ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے تھے جہاں صدر حامد کرزئی نے ان کا استقبال کیا۔
پچھلے ایک سال سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ طالبان اور القاعدہ کے افراد کے خلاف ناکافی کارروائی کر رہا ہے اور یہ افراد سرحد پار ٹھکانوں میں مقیم تھے۔ پاکستان کی اس تجویز پر بھی افغان حکام نے تنقید کی تھی کہ وہ سرحد پر باڑ اور بارودی سرنگیں لگائے گا۔
راولپنڈی کے چکلالہ ائر بیس سے روانہ ہونے سے پہلے وزیر اعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ بارڈر سکیورٹی ہی صرف موضوع بحث نہیں رہے گی بلکہ’ہم اور بہت سے اور موضوعات پر بات کریں گے جیسے کہ تجارت، سرمایہ کاری اور افغان پناہ گزین۔‘
شوکت عزیز نے کہا تھا کہ مذاکرات کا محور یہ ہوگا کہ ’اس پورے خطے کو کس طرح پُرامن اور خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔‘
پاکستانی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور بین الصوبائی روابط کے وزیر سلیم سیف اللہ بھی اس دورے پر وزیر اعظم کے ساتھ گئے ہیں۔