Friday, 05 January, 2007, 16:41 GMT 21:41 PST
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اپنے ایک بیان میں پارٹی کے کئی ذمہ داران کے رویے کو ’جاگیردارانہ اور وڈیرانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان حالات میں ’قیادت کا بوجھ‘ نہیں سنبھال سکتے۔
ایم کیو ایم کے بین الاقوامی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں الطاف حسین کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ پارٹی کے ’ذمہ داران کی ایک بڑی تعداد نے من مانی اور جاگیردارانہ اور وڈیرانہ طرز عمل‘ اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ تیس سالہ جدوجہد کے بعد اب میری صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں قیادت کا بوجھ سنبھال سکوں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے ذمہ داران کی ایک بڑی تعداد تحریک کے اندازِ فکر و عمل کو تبدیل کر چکی ہے اور یہ لوگ اپنے آپ کو تنظیم کے نظم و ضبط اور ’قائد کی ہدایات‘ سے بری الذمہ سمجھنے لگے ہیں۔
الطاف حسین نے اپنے بیان میں تنظیم کے عہدیداروں اور کارکنوں میں موجود فرق پر بھی دکھ کا اظہار کیا ہے اور کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تحریک کے مشن کو جاری رکھیں۔
ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ الطاف حسین کا یہ بیان پارٹی کارکنان اور عہدے داروں کے لیے ایک انتباہ ہے۔
انکا کہنا تھا: ’انہوں نے یہ تاثر دیا ہے کہ اگر پارٹی کے ارکان اسی طرح کوتاہیاں کرتے رہے اور انہیں صدمے ملتے رہے تو انکے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہوجائیں۔‘
ایک سوال کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ پارٹی میں اختلافات نہیں ہیں لیکن الطاف حسین اس بات سے مایوس ضرور ہیں کہ ذمہ دار لوگ اپنا کام صحیح سے انجام نہیں دے رہے ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ الطاف حسین سے اس کے متعلق جلد ہی صلاح و مشورہ کیاجائےگا کہ ایسے کار کنان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو یا تو سبکدوش کر دیا جائے یا پھر معطل کیا جائے۔
ماضی میں بھی ’آپریشن کلین اپ‘ شروع ہونے کے بعد الطاف حسین نے پارٹی کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے اپنے پارٹی کی قیادت پھر سے سنبھال لی تھی۔