Thursday, 04 January, 2007, 14:54 GMT 19:54 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفر آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں نے اپنے رشتہ داروں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا اور اقوام متحدہ کو ایک یاداشت پیش کی۔
لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ گمشدہ افراد کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اغواء کیا ہے اور ان کو جبری حراست میں رکھاگیا ہے۔
مظاہرین نے اپنی یاداشت میں یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ ایک کمیشن تشکیل دے جو پاکستان میں ممکنہ خفیہ قید خانوں کی موجودگی کے بارے میں تفتتیش کرے اور یہ معلوم کرے کہ یہ کس کے حکم پر قائم کیے گئے ہیں اور یہ کہ حراست میں لیے جانے والوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔
متاثرہ خاندان کے لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو فوری اورغیر جانبدارانہ تحقیتات کرائے کہ آیا کسی فوجی یا سول افسر نے کسی طریقے سے زیر حراست لوگوں پر تشدد کرنے کی منظوری یا اجازت دی۔
اس مظاہرے میں ایک سو دس لاپتہ افراد کے خاندان والوں نے شرکت کی۔ ان میں سے بعض نے بینرز اور کتبے بھی اٹھارکھے تھے۔ایک پلے کارڈ پر لکھا
تھا: ’غمزدہ دلوں کی کوئی عید نہیں‘ جبکہ دوسرے پر درج تھا: ’فوج کیوں اپنے ہی لوگوں کو اغواء کرتی ہے‘ ۔
مظاہرین نے اقوام متحدہ کے نمائندے کو ایک یاداشت بھی پیش کی جس میں عالمی ادارے سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کے کہنے کے مطابق جبری طور پر اٹھائے گئے افراد کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالے۔
لاپتہ افراد کے اہلخانہ نےاپنے رشتہ داروں کے بارے میں جاننے اور ان کی بازیابی کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ اگرچہ ابتدا میں بہت کم خاندان اس مہم میں شریک ہوئے لیکن اب روز بروز یہ مہم زور پکڑتی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ مہم پاکستان کی سڑکوں اور عدالتوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ ان لاپتہ افراد کے خاندان والے اس عالمی ادارے تک اپنی آواز پہنچا رہے ہیں۔
اگرچہ احتجاجی مظاہروں اور عدالتی حکم کے باعث کچھ لوگوں کو رہا تو کیا گیا لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ لمبی اور سخت جنگ ہے۔
پاکستانی حکام انسانی حقوق کی پاسداری کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن عمومی تاثر یہ ہے کہ حکام کے قول و فعل میں تضاد ہے۔