Sunday, 31 December, 2006, 11:57 GMT 16:57 PST
سید شعیب حسن
بی بی سی نیوز، کراچی
صدر جنرل پرویز مشرف فوج کے جوانوں سے متعدد خطاب کے ساتھ ہی آئندہ سال ہونے والے انتخابات کے لیے مہم کا آغاز کر چکے ہیں۔
پاکستان میں فوج نے کسی بھی فوجی حکمران کی طاقت کے اصل سرچشمہ کے طور پر ہمیشہ ہی اہم کردار ادا کیا ہے اور صدر مشرف کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ فوجیوں سے براہِ راست بات کے لیے چند ماہ کے دوران انہوں نے فوجی گیریژنز کے دورے کیے ہیں۔
ان کی تقریروں کا مرکزی نکتہ پاکستان کے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ دینے کی ضرورت، اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت اور ملک پر اس کے ہونے والے اثرات رہا ہے۔
گزشتہ سال مارچ میں فوجیوں کے ایک دستے سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے پاکستان کی فوج نے جو کردار ادا کیا ہے اس سے قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان کے شمال مشرقی حصے گجرنوالہ میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی درخواست کی۔
![]() | |
| بش کا ساتھ دینے پر مشرف کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے |
کچھ دن قبل ہی صدر نے فوج کے تربیتی گریجوئٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
’ہم انتہاپسندوں سے ان کی زبان میں ہی بات کریں گے‘۔ ان کے ان جملوں سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ فوج کی صفوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے کسی قدر بے چینی پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں دفاعی امور کی تجزیہ نگار عائشہ صدیقی آغا کا کہنا تھا کہ وہاں(فوج میں) تفرق موجود ہے اور وہ یقینًا ہے۔
گیارہ ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد جب صدر پرویز مشرف نے طالبان کی حمایت سے ہاتھ کھینچا تو ان کی پالیسی کے بارے میں ناپسندیدگی پہلے دن سے ہی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔
![]() | |
| نومبر میں درگئی حملے میں 42 فوجی ہلاک ہو گئے تھے |
اس وقت کے بعد سے صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار کی باگ ڈور مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں ہی رکھی۔ بہت سے فوجی مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجیوں کی نقل و حرکت سے لے کر پوسٹنگ اور ترقی تک فوج کی ہر حرکت جنرل پرویز مشرف کی مرضی سے ہوتی ہے۔ غیر مقبول فیصلوں کے بارے میں اختلاف رائے بھی اندورنی سطح پر بڑھ رہا ہے مگر عوامی سطح پر اس کے نتائج بڑے واضح ہیں۔
اصل میں ابتداء میں پانچ میں سے دو افسران کے خلاف کوئی باقاعدہ الزامات نہیں تھے مگر بعد میں ان پر ان افراد کی مدد کرنے اور القاعدہ سے رابطوں کے الزامات لگا دیئے گئے۔ ان افسران میں ایک عادل قدوس کو گیارہ ستمبر کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو پناہ دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
ڈاکٹر آغا کا کہناہے کہ مشکلات کی وجہ یہی ہے کہ فوج کی ہائی کمان نے اپنے جونیئرز کو افغان پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا ہے۔
اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا چیلنج قبائلی علاقوں میں نسلی گروہ پشتون کی شکل میں درپیش ہے۔ پاکستان آرمی میں پچیس فیصد فوجی نسلی اعتبار سے پشتون ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پاکستان کے دو ملٹری ڈکٹیٹر اور چار آرمی چیف پشتون تھے۔ اس پس منظر میں پاکستانی سٹیبلشمنٹ پر پشتونوں کا اثرو رسوخ ظاہر ہوتا ہے۔ پشتون اکثریت پر مشتمل قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج کو مطلوب کچھ افراد کے خاندانی اور قبائلی تعلقات مقامی افراد سے اتنے گہرے تھے کہ جس کے سامنے پشتون روایات کے مطابق ہر چیز ہیچ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آپریشن ابتداء سے ہی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے۔ یہ ناممکن سی بات لگتی ہے کہ صدر پرویز مشرف کی نگاہ سے یہ تمام نکات پوشیدہ ہوں یا وہ اس بارے میں کچھ جانتے ہی نہ ہوں۔
![]() | |
| وانا میں مشتبہ افراد کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی |
فوجی جوانوں سے صدر کے خطاب کے دوران سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہوتا ہے جس میں فوج کا سینیئر یا جونیئر کوئی افسر بھی شرکت کر سکتا ہے۔
گوجرانوالہ میں صدر کے خطاب کو ہی لے لیں، جس میں 500 کے قریب فوجی افسران نے صدر کے خطاب کے بعد سوال و جواب پر مشتمل ایک گھنٹے طویل سیشن میں بھی شرکت کی۔ یہ سیشن کتنے کامیاب ثابت ہوتے ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔ تاہم فوج کے ایک افسر کے تاثرات اس ساری صورت حال کو بڑی حد تک واضح کرتے ہیں:
فوجی افسر: ’میں ایک سپاہی ہوں۔ میں اپنے فرائض سے کسی طور کوتاہی نہیں کروں گا لیکن میں فوج میں اس لیے نہیں گیا کہ اپنے ہی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتاروں‘۔