Saturday, 30 December, 2006, 15:21 GMT 20:21 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بلوچستان میں فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے جمہوری وطن پارٹی کے رہنما اکبر بگٹی کے بیٹے جمیل بگٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری اہلکاروں نے صوبہ سندھ کے ضلع سانگڑھ میں ان کی زمین پر موجود سینکڑوں جانور نیلام کردیئے ہیں۔ رینجرز نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
جمیل بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں گزشتہ دنوں رینجرز نے ان کی آبائی رہائش گاہ، بگٹی کوٹ، پر چھاپہ مارا تھا، جس میں ان کے بھائی کے داماد علی بگٹی اور منیجر جنگی سمیت اٹھائیس ملازموں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے صرف منیجر کو آزاد کیا گیا ہے۔
جمیل بگٹی کے مطابق اہلکار گھر سیل کرکے چلے گئے تھے اور وہاں پولیس تعینات کر دی تھی اور کسی کو بھی آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔
![]() | |
| نواب اکبر بگٹی اگست میں فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ |
انہوں نے بتایا کہ اہلکار گزشتہ دن تمام مال مویشی اپنے ساتھ لےگئے ہیں جو ان کا کہنا تھا کہ نیلام کریں گے، اس طرح گودام میں جو دھان پڑا تھا وہ ٹریکٹر ٹرالی میں لے گئے ہیں۔
سندھ رینجرز کے ترجمان کیپٹن فضل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو رد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز نے جو چھاپہ مارا تھا، اس میں کسی مال مویشی کو نہیں چھیڑا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جو لوگ حراست میں لیے گئے تھے وہ پولیس کے پاس ہونگے۔
دوسری جانب سانگڑھ پولیس کے سربراہ اجمل مگسی نے تمام کارروائی سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ گرفتار لوگ پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں۔
سندھ کے ضلع سانگھڑ میں بگٹی خاندان کی ایک بڑے رقبہ پر زرعی زمین ہے جو انہیں برطانوی دور حکومت میں دی گئی تھی۔