عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں حکمران جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی عملی سرگرمیاں تو ایسی ہیں جیسے انتخابات جلد ہونے ہی والے ہیں لیکن گزشتہ دو دنوں میں حکمران جماعت کی جانب سے آنے والے متضاد بیانات نے ایک نئے شوشے کو جنم دیا ہے۔
اگلے ہی روز وفاقی وزیر طلاعات محمد علی درانی اور حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے فوراً اس کی تردید کردی کہ شوکت عزیز کو آئیندہ مدت کے لیے وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
شجاعت حسین اور محمد علی درانی نے خاصی شد و مد سے شوکت عزیز کے وزارت عظمی کے سرکاری امیدوار ہونے کی تردید کی۔ وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ شوکت عزیز امیدوار ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ یہ قطعی اور برملا تردید شوکت عزیز کے لیے قدرے خفت کا باعث بھی کہی جاسکتی ہے اور اس سے حکمران جماعت کے اندر ہم آہنگی کے فقدان، اندرونی اختلافات اور انتشار کی نشاندہی ہوتی ہے۔
تاہم وزیر مملکت طارق عظیم کے بیان کے تیسرے حصہ کی تردید نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آئین صدر کے انتخاب کے لیے پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر کے عرصے کا تعین کرتا ہے اور موجودہ قومی اور صوبائی اسمبلیاں ہی صدر پرویز مشرف کو آئندہ پانچ سال کی مدت کے لیے صدر منتخب کریں گی۔
![]() | |
| شجاعت حسین نے خاصی شد و مد سے شوکت عزیز کے وزارت عظمی کے سرکاری امیدوار ہونے کی تردید کی |
جہاں تک طارق عظیم کی اس بات کا تعلق ہے کہ عام انتخابات سنہ دو ہزار آٹھ کے پہلے ماہ کے وسط میں ہوں گے تو ماہ ِمحرم دس جنوری سے شروع ہوگا۔ چاند نظر آنے کے مطابق ایک دن آگے پیچھے ہوسکتا ہے۔
یہ وہ ایام ہوں گے جو مسلمانوں میں واقعہء کربلا کا سوگ منانے کے لیے مخصوص سمجھے جاتے ہیں۔ ملکی تاریخ میں محرم میں انتخابی سرگرمی کی پہلے سے تو کوئی روایت موجود نہیں۔
عام انتخابات سے متعلق حکمران جماعت کے رہنماؤں کے بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب اگلے روز اچانک تین صوبوں۔ پنجاب، بلوچستان اور سرحد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس تبدیل کردیے گئے جس کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کی جانب سے قبل از انتخابات دھاندلی کی منصوبہ بندی قرار دیا ہے۔
دوسری طرف، صدر جنرل پرویز مشرف آئے دن ملک کے طول و عرض میں عوامی جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہی جگہ جگہ عوامی جلسوں کے ساتھ ساتھ نچلی سطح کے کونسلروں اور ناظمین کے اجلاس سے بھی خطاب کررہے ہیں۔
![]() | |
| وزیراعلیٰ پنجاب جگہ جگہ عوامی جلسوں سے خطاب کررہے ہیں(فائل فوٹو) |
حکمران جماعت کے رہنماؤں کی نقل و حرکت سے تو یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ وہ عام انتخابات کی مہم چلا رہے ہیں جن کے انعقاد کا اعلان اچانک کیا جاسکتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ فوجی حکمت عملی میں کوئی کام اچانک کرکے مخالف کو حیران کردینے اور اسے دھوکہ دینے کے گُر اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے جب فوجی سربراہ سیاست کرتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ انہی حربوں کا استعمال سیاست میں بھی کرسکتا ہے۔
اگر وزیر مملکت طارق عظیم کے بیان پر اعتبار کیا جائے کہ عام الیکشن ایک سال بعد ہوں گے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتخابی مہم کی فضا اتنے طویل عرصے تک قائم رکھی جائے گی اور اس کے ملک پر کیا اثرات ہوں گے۔
اس سے پہلے صرف انیس سو ستر کے عام انتخابات سے پہلے طویل انتخابی مہم چلائے جانے کی مثال موجود ہے جس کے اختتام پر پاکستان کا مشرقی حصہ الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں سیاست میں عام طور پر وہ کچھ نہیں ہوتا جو وزراء بیان دیتے ہیں بلکہ خبریں جھوٹی اور افواہیں سچی ثابت ہوتی آئی ہیں۔ دیکھیے اس بار کیا ہوتا ہے؟