ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
حکومت پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر مشتبہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے باڑ اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کے فیصلے پر قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد سے ملاجلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
کچھ قبائلی سمجھتے ہیں کہ اس طرح افغانستان کے الزامات سے چھٹکارا مل جائے گا جبکہ بعض لوگ اسے پشتونوں کو تقسیم کرنے کی ایک کوشش قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔
پاکستان کے افغان سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کے فیصلے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان نے پہلے پہل افغانستان سے مل کر اس منصوبے کو شروع کرنے کے ارادے کا کئی بار اظہار کیا تھا تاہم کابل اس کے حق میں نہیں تھا۔ اب اس کی مخالفت کوئی نئی بات نہیں۔
قبائلی علاقوں میں کونسلروں کے اتحاد کے سیکٹری جنرل تاج محل آفریدی کہتے ہیں کہ اگر بارودی سرنگیں نصب کی گئیں تو دونوں جانب پختون مریں گے۔
پشتونوں کے خلاف سازش |
تاج محل آفریدی کا کہنا ہے کہ ملک کی تاریخ میں قبائلیوں نے پہلی مرتبہ اسی ہزار فوجیوں کو مغربی سرحد پر آنے دیا۔ ’اس کا مقصد یہی تھا کہ سرحد پار دراندازی روکی جا سکے اور یہاں امن ہو۔‘
پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اس سرکاری فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔ پشاور میں بدھ کے روز جاری ایک بیان میں اے این پی کے مرکزی سیکٹری اطلاعات زاہد خان نے اسے احمقانہ قدم قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور جہادی تنظیمیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق ہیں اور اس کا خراج پختونوں سے وصول کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں بڑی سیاسی قوت جمیعت علماء اسلام نے سرحد پر باڑ کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ جنوبی وزیرستان سے جے یو آئی کے سینیٹر سید صالح شاہ کا کہنا تھا کہ اس سے روز روز کے افغان الزامات سے چھٹکارا مل جائے گا۔
بچنے کا واحد راستہ |
بارودی سرنگوں کو قبائلی دشمنیوں میں استعمال کرنے والے علاقے باجوڑ میں بھی اس حکومتی اقدام کی حمایت دیکھی جا رہی ہے۔ باجوڑ کے صدر مقام خار کے ایک دوکاندار عبدالوہاب کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے سوا دوسرا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا ہے افغان شکایات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق پچیس سو کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانا ناصرف مشکل بلکہ بھاری فنڈز کا متقاضی منصوبہ بھی ہے۔ خدشہ ہے کہ حکومت کم خرچ ہونے کی وجہ سے کہیں باڑ سے زیادہ بارودی سرنگیں نصب نہ کر دے جس سے مقامی آبادی ایک مستقل خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔