http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 27 December, 2006, 01:35 GMT 06:35 PST

عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

منیر نیازی معاصرین کی نظر میں

اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر منیر نیازی منگل کی شام لاہور کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔

ان کی شخصیت اور کلام کے بارے میں چند معاصرین نے یوں اظہار خیال کیا ہے۔

زمین دور سے تازہ دکھائی دیتی ہے
رُکا ہے اس پہ قمر چشمِ سیر بین کی طرح

ممتاز ادیب انتظار حسین کا کہنا ہے کہ منیرنیازی کی شاعری میں نامعلوم کا خوف اور نامعلوم کے لیے کشِش کی صورت کچھ ایسی ہے جیسے آدم و حوا ابھی ابھی جنت سے نکل کر زمین پر آئے ہیں۔‘

بس اتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سب
رکا ہوا ہُوں سفر میں، کسی دیار میں ہُوں

وہ کہتے ہیں۔ ’اس نے اپنے عہد کے اندر رہ کر ایک آفت زدہ شہر دریافت کیا ہے۔

اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں
گلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے

انتظار حسین کے بقول منیر نیازی کا عہد منیر نیازی کا کوفہ ہے۔ پھر ہر پھر کر شہر کا ذکر بھی ایک معنی رکھتا ہے۔ اس سے شاعر کا اپنے ارد گرد کے ساتھ گہرے رشتے کا پتہ چلتا ہے۔

سویا ہوا تھا شہر کسی سانپ کی طرح
میں دیکھتا ہی رہ گیا اور چاند ڈھل گیا

شاعر اور نقاد سلیم الرحمن کا کہنا ہے کہ منیر نیازی کی شاعری کی تین بڑی علامتیں ہیں۔ ہوا، شام اور موت۔

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

سلیم الرحمن کو ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ہوا کی آواز میں موت کی ندا سنائی دیتی ہے۔ جب تیز ہوا کے جھونکے آتے ہیں تو کچھ پیلی مرجھائی پتیاں ٹوٹ کر گر جاتی ہیں! ’ٹوٹا پتا ڈال سے لے گئی پون اُڑا کے‘۔

وہ کہتے ہیں۔’منیر مسافر بھی ہے تو، شام کا مسافر۔ کہتے ہیں سفر وسیلہ ظفر ہے۔ منیر کے ہاں تو سفر وسیلۂ خبر ہے۔ نامعلوم کی خبر۔‘

سفر میں ہے جو ازل سے یہ وہ بلا ہی نہ ہو
کواڑ کھول کے دیکھو، کہیں ہوا ہی نہ ہو

منیر نیازی ان خوش قسمت اہل فن میں سے تھے جنہیں ان کی زندگی میں ایک بڑا شاعر مانا گیا اور ان کی تعریف و تحسین کی گئی۔

احساسات کا شاعر
 اس کے احساسات کسی عالم بالا کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ اس کی اپنی زندگی کی سطح پر کھیلنے والی لہریں ہیں۔ انہی نازک، چنچل، بے تاب، دھڑکتی ہوئی لہروں کو اس نے شعروں کی سطروں میں ڈھال دیا ہے
 
مجید امجد

ان کے پہلے مجموعے پر تبصرہ کرتےہوئے معروف ادیب اشفاق احمد لکھتے ہیں۔ ’منیر نے بات کی اور ختم کردی! سننے والے سوچنے پر مجبور ہوگئے اور پھر ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف، ذہن کے چلو میں قطرہ قطرہ ہو کر ٹپکنے لگا۔۔۔‘

آہ! یہ بارانی رات
مینہ، ہوا، طوفان، رقص صاعقات
شش جہت پر تیرگی امڈتی ہوئی
ایک سناٹے میں گُم ہے بزم گاہ حادثات
آسماں پر بادلوں کے قافلے بڑھتے ہوئے
اور مری کھڑکی کے نیچے کانپتے ہوئے پیڑوں کے ہات

منیر کے ایک بڑے ہم عصر شاعر مجید امجد ان پر اپنے مضمون میں کہتے ہیں کہ ’اس کے احساسات کسی عالم بالا کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ اس کی اپنی زندگی کی سطح پر کھیلنے والی لہریں ہیں۔ انہی نازک، چنچل، بے تاب، دھڑکتی ہوئی لہروں کو اس نے شعروں کی سطروں میں ڈھال دیا ہے اور اس کوشش میں اس نے انسانی جذبے کے ایسے گریز پا پہلوؤں کو بھی اپنے شعر کے جادو سے اجاگر کردیا ہے جو اس سے پہلے اس طرح ادا نہیں ہوئے تھے۔‘

اشفاق احمد نے منیر نیازی کے بارے میں کہا تھا: ’وہ ان شاعروں کا آواگونی روپ ہے جو سنسار کے ایک کونے میں اپنی کلا جگا کر سالوں اور صدیوں کے نیچے نیچے کسی دوسری اور نکل جاتے ہیں۔‘

چھبیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ کو منیر نیازی کسی اور نکل گئے۔ انہوں نے کہا تھا۔

یاد بھی ہیں اے منیر اُس شام کی تنہائیاں
ایک میداں، اک درخت اور تُو خدا کے سامنے