Friday, 22 December, 2006, 11:15 GMT 16:15 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
راولپنڈی کی ایک عدالت نے جمعہ کو ’لندن طیارہ سازش کیس‘ کے اہم کردار کے طور پر پیش کیے جانے والے برطانوی شہری راشد رؤف کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ وکیل صفائی کو مقدمہ سے متعلق تمام دستاویزات فراہم کی جائیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کلیم خان نے اس ہدایت کے ساتھ مقدمہ کی مزید سماعت پانچ جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
راشد رؤف کے وکیل حشمت حبیب کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی تک اپنے مؤکل کے خلاف الزامات کی فہرست اور گواہوں کے بیا نات کی نقول فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
راشد رؤف پر الزام ہے کہ ان کا تعلق ’القاعدہ‘ سے ہے اور انہوں نے اس سال اگست میں لندن سے پرواز کرنے والی گیارہ پروازوں کو فضا میں تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا، جسے برطانوی حکام نے بر وقت ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
پولیس نے ان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا، لیکن انسداد دہشت گردی کی متعلقہ عدالت نے مقدمہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بھجواتے ہوئے کہا کہ وہی یہ فیصلہ کریں گے یہ مقدمہ کس عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
حشمت حبیب کے مطابق ان کے مؤکل پر جعلسازی، دھوکہ دہی اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزامات کے تحت مقدمہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لندن طیارہ سازش‘ کو امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کی حکومتوں نے اتنا اچھالا تھا کہ دنیا بھر کےلوگ خوفزدہ ہوگئے تھے، لیکن اب اس سازش کے ’سرکردہ‘ ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت نہ تو انسداد دہشت گردی کی عدالت کر رہی ہے اور نہ ہی سیشن جج۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمہ کے تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں اور انہوں نے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا، جس سے بظاہر انہیں لگتا ہے کہ طیارہ سازش کیس ایک ڈرامہ تھا جس سے دنیا بھر میں پاکستان اور اسلام بدنام ہوا۔
ان کے مطابق راشد رؤف کو ملتان سے بہاولپور جاتے ہوئے ایک بس سے اتارکر نواگست کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن پولیس نے ان کی گرفتاری دس اگست کو راولپنڈی سے ظاہر کی ہے۔
حشمت حبیب کا کہنا تھا کہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ راشد رؤف سے ایسا مواد برآمد کیا گیا تھا جو بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ ان کے مؤکل سے صرف زخم صاف کرنے والی دوائی برآمد ہوئی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے سے پہلے عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راشد رؤف کا کہنا تھا کہ ان پر طیارے تباہ کرنے کی سازش تیار کرنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ ’یہ بے انصافی ہے اور (الزامات) جھوٹ پر مبنی ہیں‘۔
چار ماہ قبل حراست میں لیے جانے کے بعد یہ پہلی دفعہ تھا کہ راشد رؤف کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرنے کا موقع ملا تھا۔