Friday, 22 December, 2006, 07:33 GMT 12:33 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے جمعرات کو پشاور میں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے دو وفود سے ملاقات میں انہیں امن معاہدوں میں ’کمزوریاں‘ دور کرنے کے لیے کہا ہے تاکہ بقول ان کے ناقدین کو ان کی نشاندہی کا موقع نہ مل سکے۔
تاہم گورنر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ان معاہدوں میں پائی جانے والی کن کمزوریوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بین القوامی سطح پر قبائلی علاقوں کے بارے میں اٹھائے جانے والے سوالات اور خدشات کے تناظر میں سیاسی مبصرین ان ملاقاتوں کو کافی اہم قرار دے رہے ہیں۔
حکومت اور قبائل کے درمیان طے ہونے والے امن معاہدوں کے بعد سے مغربی ذرائع ابلاغ قبائلی علاقوں میں طالبان کا راج قائم ہونے کے دعوے کرتے آ رہے ہیں۔
گورنر سرحد سے یہ ملاقاتیں پشاور میں قبائلی ملکان کے علاوہ شکئی اور محسود امن کمیٹیوں کے اراکین، رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین، سینیٹر صالح شاہ اور شکئی کے عبدالخانان نے کی۔
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اس موقعہ پر بات کرتے ہوئے گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ امن معاہدوں کے بعد سے حالات بہتر ہوئے ہیں، تاہم علاقے میں پائیدار امن و سکون کے لیے ان کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمسایہ ملک افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ وہاں ’حقیقت پسندانہ‘ طرز عمل اختیار کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول افغانستان کے حالات کا پاکستانی قبائلی علاقوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔
شکئی اور محسود امن کمیٹی کے اراکین پر حکومت کی حمایت کرنے کے شبہ میں ماضی قریب میں کئی حملے ہوچکے ہیں، جن میں کئی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔
اس موقع پر قبائلی عمائدین نے حکومت سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ پرتشدد کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے معاوضہ کا معاملہ بھی اٹھایا۔