Thursday, 21 December, 2006, 20:01 GMT 01:01 PST
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے جنرل مشرف کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل ایک آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر زور دیا ہے۔
میاں نواز شریف نے نیشنل اسمبلی سے اجتماعی استعفے دینے کے مسئلے پر بے نظیر بھٹو، قاضی حسین احمد، محمود خان اچک زئی اور عمران خان جیسے رہنماؤں کوخط لکھا ہے۔
اپنےخط میں نواز شریف نے جنرل مشرف کے خلاف اتحاد کھڑا کرنے کے لیے پانچ نکاتی پروگرام کی تفصیلات لکھی ہیں اور دوسرے لیڈروں سے اس مسئلے پر تبادلہ خیال کی دعوت دی ہے۔
لندن میں میاں نواز شریف کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انکے اس قدم کا مثبت اثر ہوا اور قاضی حسین احمد نے اس قدم کو وقت کی اہم ضرورت بتایا ہے۔
نواز شریف نے سینیٹر ساجد میر کی قیادت میں جمعیت اہل حدیث کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی ہےاور انہیں بھی اپنی مہم میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انکا پانچ نکاتی ایجنڈا پاکستان میں آئینی حکومت کی ضامن ثابت ہوسکتا ہے۔
میاں نواز شریف نے کہا ہےکہ جنرل مشرف کے خلاف الزامات کی ایک لمبی فہرست ہے اور حزب اختلاف کوچاہئے کہ وہ انہیں عوام کو سامنے رکھتے ہوئے اجتماعی طور پر قومی اسمبلی سے مستعفی ہو جائیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو چاہیۓ کہ اقتدار کے لالچ کے بجائے وہ آئندہ عام انتخابات کو پاکستان میں جمہوریت واپس لانے کے لیے استعمال کریں۔
میاں نواز شریف نے کہا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے کلچر کو مٹانا ہوگا لیکن اس کے لیے سخت ترین محنت کی ضرورت ہے اور ان کی پارٹی اس کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کام آسان نہیں ہے لیکن ایک دن یہ مہم کامیاب ضرور ہوگي۔
میاں نواز شریف نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ پاکستان مسلم لیگ( ن) میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انہوں کہا کہ انکی جماعت نے حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔