Tuesday, 19 December, 2006, 12:25 GMT 17:25 PST
افغانستان نے کہا ہے کہ اس نے پاکستان کے ایک انٹیلیجنس ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے جو القاعدہ کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے کا کام کرتا تھا۔
افغان صدر کے ترجمان کریم رحیمی کے مطابق ایجنٹ کو مشرقی صوبے کنار سے گرفتار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ایجنٹ کے ایسی دستاویزات تھیں جو اس کے گناہگار ہونے کا ثبوت ہیں۔
یہ اعلان پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک افغان جنرل کے پکڑے جانے کے ایک دن بعد کیا گیا ہے۔
ترجمان نے پکڑے جانے والے مبینہ پاکستانی ایجنٹ کا نام سیعد اکبر بتایا جو کہ بقول ان کے آئی ایس آئی کے لیے کام کرتا ہے۔
افغانستان کافی عرصے سے یہ الزامات لگاتا رہا ہے کہ سرحد پار کے طالبان کے حملوں میں پاکستان بھی ملوث ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ترجمان کریم رحیمی کا کہنا ہے کہ سیعد اکبر کا تعلق شمالی پاکستان کے علاقے چترال سے ہے جس کی سرحد افغان صوبے نورستان سے ملتی ہے۔
افغان حکام کے مطابق سیعد اکبر آئی ایس آئی کے اس شعبے کے انچارج ہیں جس کا کام القاعدہ رہنماؤں سے تعلق قائم رکھنا ہے۔
حکام کے مطابق سیعد اکبر نے اپنی ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ کا اقرار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ان سرگرمیوں میں گزشتہ سال اسامہ بن لادن کو نورستان سے چترال لے جانا بھی شامل ہے۔
ابھی تک پاکستان کی طرف سے اس گرفتاری پر کوئی ردِ عمل نہیں آیا ہے۔