Monday, 18 December, 2006, 02:17 GMT 07:17 PST
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور جلاوطن رہنما میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ انھیں ملک کے فوجی آمر صدر مشرف کی قیادت میں منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کی امید نہیں مگر ان کی جماعت اتخابات میں حصہ لینے کی بھر پور تیاری کررہی ہے۔
یہ بات نواز شریف نے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔
نواز شریف کے مطابق ان کے اسی سلسے میں گزشتہ دو ہفتے سے لندن میں پارٹی کے سینئیر رہنماؤں سےصلاح مشورے ہوتے رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے اختتام ہر سنیچر کو ایک اخباری کانفرنس میں انہوں نے فوج پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ’اب جی ایچ کیو میں بیٹھے پندرہ جنرلوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ صرف وہ اور ان کے سربراہ ملک پر حکمرانی کریں گے یہ پھر پاکستان کے ڈیڑھ کروڑ عوام۔‘
بی بی سی سے بات کرتے انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے سینکڑوں لوگ اس لیے لندن آئے ہوئے تھے تاکہ انتخابات کی بھرپور تیاری کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کو ’فری اینڈ فیر الیکشنز تو سوٹ ہی نہیں کرتے‘ اور اسی لیے جنرل مشرف نے ایجنسیوں کو اس کام پر شروع کرا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملکی ایجنسیاں ہیں لیکن جنرل مشرف نے ان کو ’اپنے ذات کے ارد گھما دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایجنسیاں’میدان میں کود پڑی ہیں اور الیکشنز کی بھرپور تیاریاں کر رہی ہیں ۔یہ مختلف امیدواروں کے پاس بھی جارہی ہیں اور الوگوں کو توڑنے اور جوڑنے کا بھی سلسلہ انہوں نے شروع کر دیاہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ’فوج ملکی اور قومی ادارہ ہے مشرف صاحب کی ذاتی جاگیر تو نہیں۔ فوج کو قومی ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے کسی کے گھر کی باندھی تو نہیں بننا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی جماعت ملک کو ’انشاالہ قانون اور آئین کی حکمرانی واپس دلائیں گے۔‘
سابق وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ جمہوریت کی بحالی میں پاکستانی عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔