http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 16 December, 2006, 16:21 GMT 21:21 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

PTCL میں ’چھانٹی‘ پر ہڑتال

بلوچستان میں ٹیلیفون کے محکمے کے ملازمین نے سنیچر سے علامتی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے، جبکہ دفاتر کا بائیکاٹ پہلے ہی گذشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے۔

ہڑتالی ملازمین کو خدشہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ کی نجکاری کے بعد ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جس سے بلوچستان میں تعینات اہلکار زیادہ متاثر ہونگے۔

پاکستان ٹیلی کام ایمپلائز یونین کے صوبائی صدر حاجی ظاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ملک بھر میں ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے چوبیس سو دس ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے گا اور صرف نو سو کو نوکریوں پر بحال رکھا جائے گا۔

ان کے بقول پاکستان بھر میں پچاس فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے کوئی پینتیس ہزار ملازمین متاثر ہوں گے۔ ہڑتال کی وجہ سے نہ تو خراب ٹیلیفون ٹھیک کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی نئے کنکشن لگائے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں بلوچستان میں پی ٹی سی ایل کے جنرل مینیجر اکرم خان آفریدی
سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

یاد رہے کہ نجکاری کے بعد پی ٹی سی ایل کی ملکیت متحدہ عرب امارات کی ایک فرم ’ایتصلات‘ کے پاس ہے۔