http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 15 December, 2006, 16:06 GMT 21:06 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

تین مزید لاپتہ افراد رہا ہو گئے

لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی جمعہ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چودھری افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت شروع کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تین مزید لاپتہ افراد رہا کردیے گئے ہیں ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ان تین افراد کے علاوہ دیگر افراد کی رہائی اور تلاش کی کوششیں جاری ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کے مطابق رہائی پانے والے تین افراد میں عبدالرؤف ساسولی، محمد سلیم بلوچ اور محمد سعید بروہی شامل ہیں اور عدالت کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد رہائی پانے والوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔ تاحال جو آخری تین افراد رہا ہوئے ہیں وہ بلوچ قوم پرست تنظیموں سے وابستہ ہیں۔

عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ انٹیلی جنس اداروں سے رابطہ کرکے باقی لاپتہ افراد کے متعلق معلومات آئندہ سماعت کے موقع پر پیش کریں۔

انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے اکتالیس افراد کی بازیابی کے اس مقدمے کی سماعت کے دوران مسز آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت میں ایک تحریری درخواست پیش کی جس میں بتایا کہ ان کا دس ایسے افراد سے رابطہ ہوا جنہوں نے بیان حلفی دیا ہے کہ انہیں مختلف خفیہ ایجنسیوں نے اٹھالیا تھا۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ بیان حلفی دینے والے افراد کو سکیورٹی ایجنسیاں حراساں کر سکتی ہیں اس لیے انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

چیف جسٹس نے حکومت کو ہدایت کی متعلقہ افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ وہ عدالت کو معاونت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو حراساں کیا گیا تو عدالت کو بتائیں۔

مسعود احمد جنجوعہ تبلیغ اسلام کے لیے پشاور جاتے ہوئے گزشتہ برس لاپتہ ہوگئے تھے اور ان کی بیگم آمنہ مسعود کا دعویٰ ہے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسی کی تحویل میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے مزید سماعت آٹھ جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ تمام انٹیلی جنس اداروں سے رابطہ کرکے باقی لاپتہ افراد کے متعلق بھی عدالت کو معلومات فراہم کریں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کی رہنما عاصمہ جہانگیر نے بتایا تھا کہ تاحال انہوں نے دو سو بیالیس لاپتہ افراد کے متعلق فہرست مرتب کی ہے۔ اس فہرست میں پونے دو سو کے قریب غائب ہونے والے افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے جہاں صوبائی حقوق کے لیے تحریک چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو بانوے میں اقوام متحدہ کے منظور کردہ کنوینشن کے تحت کسی بھی شہری کو جبری طور پر حراست میں نہیں رکھا جاسکتا اور ایسا کرنا جرم ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں لاپتہ ہونے والے بیشتر افراد کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ ان کے پیاروں کو خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کر لیا ہے۔