Wednesday, 13 December, 2006, 08:42 GMT 13:42 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
لندن سے اڑنے والے طیاروں کو فضا میں تباہ کرنے کی مبینہ سازش کے اہم ملزم برطانوی شہری راشد رؤف کے خلاف راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج ملک صفدر حسین نے مقدمہ عام عدالت میں چلانے کا حکم دیا ہے۔
راشد رؤف کے وکیل حشمت حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو جب سماعت شروع ہوئی تو ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا اور انہوں نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے دہشت گردی کی فرضی کہانی گھڑ کر مقدمہ بنایا ہے۔
وکیل کے مطابق پولیس کے پیش کردہ چالان میں جعلسازی اور دھماکہ خیز مواد رکھنے سمیت چھ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں سے پانچ شقوں کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا دائرہ سماعت نہیں بنتا۔
حشمت حبیب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ملتان سے بہاولپور جاتے ہوئے ایک بس سے اتارکر نو اگست کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن پولیس نے چالان میں ان کی گرفتاری دس اگست کو راولپنڈی سے ظاہر کی ہے جوکہ غلط ہے۔
وکیل کے مطابق پاکستان حکومت نے امریکی صدر بش کی جماعت کو انتخابات میں جتوانے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا تھا اور حقیقت میں راشد رؤف نے برطانیہ سے امریکہ جانے والے گیارہ طیاروں کو تباہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔
ایڈووکیٹ حبیب نے کہا کہ پولیس چالان کے مطابق راشد رؤف سے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ برآمد کیا گیا اور پولیس کہتی ہے کہ یہ مواد بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ اصل میں ملزم سے زخموں کو صاف کرنے والی دوائی برآمد ہوئی تھی۔
استغاثہ نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے دائرے میں آتا ہے اس لیے وہی سماعت کرے۔
عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مقدمہ ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی کو بھیج دیا اور حکم دیا کہ بیس دسمبر کو ملزم راشد رؤف کو ڈسٹرکٹ جج کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ وہ عدالت اس مقدمے کی سماعت کے لیے مجاز عدالت کا تعین کرسکے۔
مقدمے کی سماعت کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حشمت حبیب نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے مقدمہ کی سماعت نہ کرنے اور عام عدالت کو بھجوانے کے حکم سے ثابت ہوگیا کہ راشد رؤف دہشت گردی کے منصوبے میں ملوث نہیں اور طیارہ سازش کیس حکومت کی من گھڑت کہانی تھی۔