Wednesday, 13 December, 2006, 11:11 GMT 16:11 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور ہائی کورٹ نے بعض شہریوں کی پراسرار گمشدگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے حکومتی سکیورٹی اداروں کی ’لاعلمی‘ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس طارق پرویز افغان مصنف اور صحافی عبد الرحیم مسلم دوست کے بھائی کی جانب سے دائر کردہ حبس بے جا کی ایک درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔
عبدالرحیم مسلم دوست کچھ عرصہ قبل گونتاناموبے سے رہا ہوکر آئے تھے تاہم اکتوبر میں پاکستانی حساس اداروں نے مبینہ طو پر ان کے گھر واقع اکیڈیمی ٹاؤن میں ایک مسجد سے ان کو حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا اور وہ آج تک لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کیوبا کے بدنام زمانہ جیل سے رہائی کے بعد ایک کتاب لکھی تھی جس میں پاکستانی حساس اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے عدالت میں موجود ڈپٹی اٹارنی جنرل اور سی آئی ڈی پولیس کے اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’ کل کو چیف جسٹس کو بھی غائب کیا جاسکتا ہے تو اس کی ذمہ داری پھر کس پر عائد ہوگی‘۔