http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 11 December, 2006, 17:29 GMT 22:29 PST

’یو ٹرن لینے سے فرق نہیں پڑتا‘

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل منورحسن اورکشمیری علحدگی پسند رہنما علی شاہ گلانی نے کشمیر پر پاکستانی موقف پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں

منور حسن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دفتر خارجہ کی جس خاتون نے یہ بیان دیا ہے انہیں کشمیر کی تاریخ معلوم کرنی چاہیئے۔ جہاں تک’ کشمیر بنے گا پاکستان‘ کا نعرہ ہے یہ نہ صرف نعرہ ہے بلکہ یہ ایک فلسفہ ہے اور یہ کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانی کا اہم ترین عنوان ہے۔

بھارت جو کہتا رہے لیکن ہم نے یہ ہمیشہ کہا ہے کہ اس معاملے پر کشمیریوں کی خودارادیت کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ غیر آئینی صدر کے کچھ کہنے یا ’ یو ٹرن‘ لینے سے کچھ فرق نہیں پڑتا یا ان کے کچھ کہنے سے نقشہ نہیں بدل جاتا۔

منور حسن نے کہا کہ پچھلے ساٹھ سال میں جتنی بھی پاکستانی حکومتیں آئیں ہیں سب نے اقوام متحدہ کے قرارداد کے مطابق ہی اپنا سٹینڈ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کشمیریوں پر چھوڑنا چاہیئے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ آنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے تین جنگیں لڑیں۔ پاکستنان نےکشمیر کی وجہ سے ہی مشرقی پاکستان کوگنوا دیا۔ جب کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کا موقع دیا جائے گا تو یہاں کے ایک کروڑ تیس لاکھ عوام پاکستان میں شمولیت کا فعصلہ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت یہ نہیں کہ رہی ہے کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں ہے بلکہ یہ تو حکمرانوں کا ایک ٹولہ ہے جو امریکہ کے دباؤ میں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں گیلانی نے کہا کہ یہ تازہ بیان پاکستانی عوام یا پارلیمان یا سیاسی قیادت کا بیان نہیں ہے بلکہ یہ تو فوجی ریجیم کا بیان ہے جو امریکہ کے دباؤ میں سب کچھ کہ رہا ہے۔