http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 07 December, 2006, 16:34 GMT 21:34 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

مشرف بلوچستان کے دورے پر

صدر جنرل پرویز مشرف جمعرات کو تین روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کو پنجاب کے برابر ترقی دے جائے گی۔

ان کے اس دورے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان کی آمد کے موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور پولیس نے صوبہ بھر سے ساٹھ سے زیادہ قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کا کوئٹہ کا یہ پہلا دورہ ہے اس سے پہلے وہ گوادر کا دورہ کر چکے ہیں۔

کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ’ بلوچستان میں کوئی اور لشکر وغیرہ نہیں ہے صرف پاکستان کی فوج ہے اور لشکرِ بلوچستان کا اعلان کرنے والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور بلوچستان کی ترقی اور آئندہ نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہمارے ساتھ چلیں‘۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے صوبے میں کیڈٹ کالجز قائم کرنے، ایم اے پاس نوجوانوں کو دس ہزار روپے ماہوار کی ملازمت دینے اور کوئٹہ کے لیے ایک ارب روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

صدر پرویز مشرف کے دورے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کے علاوہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے احتجاج کیا ہے۔ نیشنل پارٹی نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جبکہ بی این پی نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ بی ایس او نے پریس کلب کے سامنے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ہے۔
صدر مشرف کی آمد پر قلات اور خضدار میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی

کوئٹہ میں پولیس نے نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو اور رکن صوبائی اسمبلی رحمت بلوچ سمیت درجن بھر قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ تربت پنجگور خضدار اور قلات میں بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ تربت سے سنیٹر ڈاکٹر عبدالمالک ڈاکٹر یٰسین سابق ناظم مولا بخش دشتی سمیت کوئی بیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ قلات اور خضدار میں جمعرات کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔

نیشنل پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتاریوں کے باوجود ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے دورے کے حوالے سے کوئٹہ میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ جلسہ گاہ اور گورنر ہاؤس کی جانب جانے والے سڑک پر بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات تھے۔جلسہ گاہ میں موبائل فون تک لے جانے پر پابندی تھی یہاں تک کہ صحافیوں کو بھی کیمرے اور ریکارڈنگ مشین لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔