Wednesday, 06 December, 2006, 15:16 GMT 20:16 PST
پاکستان کے صدر جنرل پرویزمشرف نے بھارت کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوہزار سات میں عام انتخابات ہونے تک وہ فوجی عہدے پر برقرار رہیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’ آئین کے مطابق مجھے دو ہزار سات تک اس عہدے پر رہنے کی اجازت ہے تو میں رہونگا‘۔
مشرف کا کہنا تھا کہ وردی کے متعلق بہت طرح کی باتیں کہی جارہی ہیں۔ لیکن وہ اتنا جانتے ہیں کہ اگرانتخابات نومبر دو ہزار سات میں ہوئے تو وہ فوجی وردی میں ہونگے ۔
’اس پر میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اورہاں اسکے متعلق مجھے فیصلہ کرنا ہے‘۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے یہ فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
جب ان سے یہ کہا گیا کہ شاید آپ اس عہدے پر برقرار رہنا چاہتے ہیں توانہوں نے کہا کہ 'مجھے نہیں معلوم، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔،
بات چیت کے دوران پرویز مشرف نے یہ بھی کہا کہ عام انتخابات میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور بے نیظیر بھٹو کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
صدر مشرف نے کہا کہ اگر نواز شریف پاکستان آئے تو انہیں واپس سعودی عرب بھیج دیا جائیگا اور بے نظیر کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑیگا۔
ایک سوال کے جواب میں مشرف نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کو مجرم ٹھرایاجاچکا ہے۔ ایک نے دس برس باہر رہنے کا عہد کیا ہے اور دوسرا بھی تب ہی سے ملک کے باہر ہے۔
جنرل مشرف نے کہا کہ انتخابات نومبر کے بعد اور جنوری دوہزار آٹھ سے پہلے ہونگے۔ انہوں نے امید ظاہر کی وہ ان انتخابات میں کامیاب ہونگے۔