Sunday, 03 December, 2006, 17:16 GMT 22:16 PST
حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے علمائے کرام کے وفد سے ایک ملاقات میں خواتین کے حقوق کے سلسلے میں اپنا بل ان کے سامنے رکھا ہے۔
چوہدری شجاعت حسین کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ عورتوں پر مظالم کا سلسلہ ابھی جاری ہے جیسا کہ چھوٹی عمر کی لڑکیوں کو زبردستی بڑے بوڑھوں سے بیاہ دیا جاتا ہے یا ان کا شادی قرآن سے کر دی جاتی ہے۔ خواتین کو ان مظالم سے نجات دینے کے لیے انہوں نے یہ بل تیار کیا ہے۔
علمائے کرام کے ساتھ ہونے والی حالیہ میٹنگ میں انہوں نے اپنے بل کا مسودہ پیش کیا تا کہ اس پر بات چیت بھی ہو سکے اور علمائے کرام اپنی تجاویز بھی سامنے لاسکیں۔
چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کے مسئلے کو مذہب سے ہٹا کر سیاسی رنگ دے دیا گیا تھا اور وہ اسے پھر سے مذہبی مسئلہ بنا کر افہام و تفہیم کے ذریعے حل کریں گے۔
چوہدری شجاعت نے یہ وضاحت بھی کی کہ اس بل میں وہ چیزیں شامل ہیں جو حقوق نسواں کے منظور کردہ بل میں شامل ہونے سے رہ گئیں ہیں کیونکہ وہ بل بہت جلدی میں بنا تھا۔
حکمران مسلم لیگ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے پہلے بھی یہ بل پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی ایک مسلسل عمل ہے اور پہلے سے منظور کردہ قوانین کو کسی وقت بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
چوہدری شجاعت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر تیس دسمبر تک پہلے سے منظور کردہ بل میں وہ تبدیلی نہ لاسکے تومستعفی ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں حکومتی پارٹی کا سربراہ ہوں اور اس بل کو سب تسلیم کرتے ہیں۔
چوہدری شجاعت نے یہ بھی کہا کہ وہ سیاسی لوگوں سے سیاست کریں گے مگر مذہبی لوگوں سے سیاست نہیں کھیلیں گے اور یہ صرف پارلیمنٹ ہی ہے جو خواتین کے حقوق کا خیال رکھ سکتی ہے۔