http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 03 December, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

باجوڑ ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ

جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دس جنوری کو باجوڑ ایجنسی کے حلقہ این اے 44 میں اعلان کردہ ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا جائے گا جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) باجوڑ نے اس فیصلے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں ایک قبائلی جرگے سے خطاب کے بعد بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید نے کہا کہ حلقہ این اے 44 باجوڑ میں ضمنی انتخاب کسی بھی صورت نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ صرف ان کا یا جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ یہ فیصلہ پورے باجوڑ کے عوام کا ہے جنہوں نے آج جرگے میں شرکت کی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ باجوڑ کے 80 بچوں کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے اور مسجد اور دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا ہے تو ان حالات میں باجوڑ کے عوام ان کے بقول کیسے ’ فراڈ‘ الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔

سابق ایم این اے نے کہا کہ اگر کسی نے انتخابات کےلئے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تو باجوڑ کے عوام ان کے گھروں کا گھیراؤ کریں گے جبکہ پولنگ سٹیشنوں کا بھی محاصرہ کیا جائے گا۔

ہارون رشید کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ ایم ایم اے کا نہیں بلکہ پورے باجوڑ کے عوام کا ہے۔ 80 طلباء شہید ہوئے ہیں جو کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ کوئی دوسری پارٹی بائیکاٹ کرتی ہے یا نہیں کرتی ہم تو یہ انتخابات کسی بھی صورت میں نہیں ہونے دیں گے‘۔

80 بے گناہ بچوں کا قتل
 باجوڑ کے 80 بچوں کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے اور مسجد اور دینی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا ہے تو ان حالات میں باجوڑ کے عوام کیسے فراڈ الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔
 
ہارون رشید

دوسری طرف باجوڑ ایجنسی کے دوسرے حلقے این اے 43 سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی اور متحدہ مجلس عمل باجوڑ کے امیر مولانا صادق نے جماعت اسلامی کے اس فیصلے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بحیثیت امیر ایم ایم اے انہیں اس سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ استعفے کے معاملے پر جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے درمیان اختلافات ہیں۔ مولانا صادق کا کہنا تھا کہ ان کا تو یہ مطالبہ ہے کہ باجوڑ کے مسئلے پر ایم ایم اے کے تمام اراکین پارلمینٹ سے مستعفی ہوجائیں لیکن باقاعدہ طریقہ کار کے تحت۔

انہوں نے واضح کیا کہ صاحبزادہ ہارون رشید کا استعفٰی ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے لیکن یہ ایم ایم اے کا فیصلہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ باجوڑ کے حلقہ 44 سے جماعت اسلامی کے ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید نے تیس اکتوبر کو باجوڑ میں دینی مدرسے پر فوجی کاروائی کے نتیجے میں 80 افراد کے ہلاکت کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مذکورہ حلقے میں ضمنی انتخابات کے لئے دس جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے جس کے لئے کاغذات نامزدگی کی آخری تاریخ پانچ دسمبر مقرر کی گئی ہے۔