Tuesday, 28 November, 2006, 04:28 GMT 09:28 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو حب کے قریب ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ یہ فیصلہ نقص امن کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ سردار اختر مینگل کو رات کے وقت ایک حکم نامے کے تحت حب شہر کے قریب واقع ساکران میں ان کی رہائش گاہ میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے تیس نومبر سے گوادر سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ لانگ مارچ گیارہ دسمبر کو کوئٹہ پہنچے گی جہاں مرکزی قائدین جلسے سے خطاب کریں گے۔
بی این پی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ یہ لانگ مارچ نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت بلوچستان میں ماورائے قانون ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے علاوہ گوادر میگا پراجیکٹ اور چھاونیوں کے قیام کے خلاف کی جا رہی ہے۔
گّزشتہ روز سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود لشکر بلوچستان کے نام سے لانگ مارچ ضرور ہوگا۔
سردار اختر مینگل نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ گوادر، تربت، پنجگور اور خضدار کے بعد پولیس نے قلات اور سوراب میں بھی چھاپے مارے ہیں اور کئی کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج کرنا چاہتے ہیں اور حکومت کی یہ بھول ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ لانگ مارچ کو روک دیں گے یا لوگ اپنے حقو ق سے دستبردار ہو جائیں گے۔ سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہ ایک جماعت کی لانگ مارچ نہیں ہے بلکہ یہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف لوگوں کا ووٹ ہوگا۔