Sunday, 26 November, 2006, 19:35 GMT 00:35 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں متحدہ مجلس عمل کی جانب سے حقوق نسوان بل کے خلاف تحفظ حدود اللہ کے نام سے مارچ کیا گیا۔
اتوار کی شام گرو مندر سے شروع ہونے والےاس مظاہرے مں ایم ایم اے کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی۔ کارکنوں نےہاتھوں میں بینرزاور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پرقرآن اور سنت کے منافی قانون نامنظور، حدود آرڈیننس میں ترمیم اللہ سے بغاوت تحریر تھا۔
مارچ ایم اے جناح روڈ سے ہوتا ہوا، سی بریز پلازہ پہنچا جہاں
جلسہ منعقد کیا گیا ۔ ایم ایم اے کے مرکزی رہنما حافظ حسین، لیاقت بلوچ، مولانا اسدللہ بھٹواور دیگر نےخطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دسمبر میں کراچی میں ملین مارچ کیا جائیگا۔
حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے استعفوں کا فیصلہ حتمی ہے، اور انہیں امید ہے کہ نواز لیگ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی ایم ایم اے کے ساتھ استعفے دیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی نےحقوق نسواں بل کی حمایت کرکے عوام سے دھوکہ کیا ہے۔ اب نواز لیگ کو فیصلہ کرنا چاہیئے کہ ان کو کس کا ساتھ دینا ہے۔
حافظ حسین کا کہنا تھا کہ عوام اسلام کے خلاف کسی بل کو قبول نہیں کرینگے، اسلام کے خلاف بولنے والوں کا ہرمحاذپر مقابلہ کیا جائیگا۔
ایم ایم اے کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پارلیامنٹ سے استعفوں کے بعد جرنیلی آمریت کوالوداع کہا جائیگا، مشرف کی حکمرانی اب زیادہ دن نہیں چل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ایک بھی مسلمان زندہ ہے پاکستان اسلامی ریاست ہی رہے گا۔