Sunday, 26 November, 2006, 14:31 GMT 19:31 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود لشکر بلوچستان کے نام سے لانگ مارچ ضرور ہوگا۔
سردار اختر مینگل نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر، تربت، پنجگور اور خضدار کے بعد پولیس نے قلات اور سوراب میں بھی چھاپے مارے ہیں اور کئی کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج کرنا چاہتے ہیں اور حکومت کی یہ بھول ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ لانگ مارچ کو روک دیں گے یا لوگ اپنے حقو ق سے دستبردار ہو جائیں گے ۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہ ایک جماعت کی لانگ مارچ نہیں ہے بلکہ یہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف لوگوں کا ووٹ ہوگا۔
یہ گرفتاریاں سولہ ایم پی او کے تحت کی گئی ہیں اور بی این پی کے قائدین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائیاں تیس نومبر سے شروع ہونے والی لانگ مارچ کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
اس بارے میں صوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی اور بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے اس بارے میں کہا ہے کہ گرفتاریاں تو ہوئی ہیں لیکن فی الحال انھیں تفصیلات کا علم نہیں ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت گوادر میگا پراجیکٹ اور صوبے میں لوگوں کی مبینہ طور پر غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف تیس نومبر سے گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے اراکین نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد صوبائی اور قومی اسمبلی سے استعفے دے دیے تھے۔