Saturday, 25 November, 2006, 01:25 GMT 06:25 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
پاکستان میں بعض مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں لیاقت بلوچ اور حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ وہ فی الحال قومی اسمبلی سے مستعفی ہوں گے جبکہ سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا پتہ وہ سوچ سمجھ کر کھیلیں گے۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں زنا کے متعلق اسلامی قانون جسے حدود آرڈیننس کہا جاتا ہے اس میں ترمیم کے متعلق حقوق نسواں بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مظاہرے کے بیسیوں شرکاء نے حدود قوانین میں ترمیم، صدر جنرل پرویز مشرف اور امریکہ کے خلاف سخت نعرے لگائے۔ شرکاء نے صدر مشرف کے خلاف نازیبا الفاظ بھی کہے اور زوردار نعرے لگاتے رہے۔
حافظ حسین احمد نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کروائی اور اس کے بدلے صدر مشرف کو تین سال ’پی سی او‘ کے تحت حکومت کی اجازت دی۔ ان کے مطابق آئین میں ترمیم کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں لیکن انہوں نے یہ اختیار بھی فوجی حکمران کو دیا۔
مقررین نے کہا کہ جب صدر مشرف اجتماعات میں مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہ دینے کی ترغیب دے رہے ہیں تو انہیں بھی اجازت دی جائے کہ وہ فوجی بیرکوں میں جاکر فوجیوں کو درس دیں کہ آئین توڑنے والے فوجی صدر کو نکال دیں۔
مقررین نے پیپلز پارٹی پر بھی کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس جماعت کے بعض اراکین نے اقلیتی جماعت مسلم لیگ کا ساتھ دے کر حکومت بنوائی اور اب جب حکومت کے چالیس اراکین حدود قوانین میں ترمیم کے بل کی حمایت کے لیے ایوان میں نہیں آئے تو بھی اس جماعت نے اللہ کے قانون میں تبدیلی میں حکومت کا ساتھ دیا۔
مظاہرے کے بیشتر شرکاء دینی مدارس کے طلبا تھے اور انہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر حدود بل میں ترمیم کے خلاف نعرے اور ترمیمی بل واپس لینے کے مطالبے درج تھے۔