Saturday, 25 November, 2006, 10:48 GMT 15:48 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں جماعت اسلامی نے اپنے ایک سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید کی قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے گزشتہ دنوں قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک مدرسے پر بمباری کے واقعے کے خلاف جماعت اسلامی نے ایک احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے جس کے تحت مختلف قبائلی ایجنسیوں میں احتجاجی جلسے منعقد کیئے جا رہے ہیں۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور سے تقریبا پچاس کلومیٹر دور درہ آدم خیل میں جمعے کے روز ایسے ہی ایک جلسے سے واپسی پر باجوڑ سے سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید اور ان کے چھ دیگر ساتھیوں کو قبائلی انتظامیہ نے حراست میں لے لیا تھا۔
یاد رہے کہ ہارون رشید نے باجوڑ کے واقعے کے خلاف احتجاج کے طور پر قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
جماعت اسلامی کے صوبائی سیکٹری جنرل زر نور آفریدی نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں اس گرفتاری کی مذمت کی اور سابق ایم این اے کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق رکن قومی اسمبلی کو عام قیدیوں کے ساتھ حوالات میں رکھا جا رہا ہے۔
زر نور آفریدی کا کہنا تھا کہ درہ کی انتظامیہ نے جلسے کے بعد جماعت کے صوبائی امیر اور سابق سینئر صوبائی وزیر سراج الحق کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی اور طویل فاصلے تک ان کا پہاڑوں میں گاڑیوں میں اور پیدل تعاقب کیا۔ انہوں نے اس دوران سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ان پر گولی چلانے کا بھی الزام لگایا۔
جماعت کے رہنما کا مؤقف تھا کہ ان کا احتجاج پرامن تھا اور وہ قبائلی علاقوں میں امریکی مداخلت اور حملوں کے خلاف یہ تحریک چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی یہ تحریک جاری رہے گی جس کے تحت تیس نومبر کو ایف آر پشاور میں احتجاجی جلسہ ہوگا۔
اس کے بعد جماعت کرم، اورکزئی اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں بھی اس قسم کے احتجاج کا ارادہ رکھتی ہے۔
تاہم دوسری جانب درہ کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلسے میں شریک رہنماؤں اور منتظمین کی گرفتاری تک ان کی کارروائی جاری رہے گی۔