Tuesday, 21 November, 2006, 07:44 GMT 12:44 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
سرحد اسمبلی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک مشترکہ قرار داد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مغوی صحافی کو فوری طور بازیاب کرایا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے شمالی وزیرستان کے صحافی حیات اللہ خان بھی اس طرح چھ ماہ تک لاپتہ رہا اور بعد میں ا س کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔
بشیر بلور نے کہا کہ صحافی جان کی پرواہ کیے بغیر جنگ زدہ علاقوں میں جاتے ہیں اور وہاں سے خبریں دیتے ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران اخبارنویسوں کو پاکستان کے اندر سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
اس موقع پر سابق سینئر وزیر سراج الحق نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کے اندر لوگوں کو پر اسرار طور غائب کیا جاتا ہے اور ان کے بارے کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کون اور کس مقصد کےلیے اغواء کیا جارہا ہے۔
بعد میں ایوان نے ایک مشترکہ قرارداد منظور کرلی جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مغوی صحافی دلاورخان وزیر کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
دریں اثنا بی بی سی نے اپنے نامہ نگار دلاور خان وزیر کی اچانک گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بی بی سی ورلڈ سروس کے ڈائریکٹر نائجل چیپمین نے پاکستان کی وزارت داخلہ کو تحریری طور پر دلاور خان وزیر کی بازیابی کو جلد از جلد ممکن بنانے کی درخواست کی ہے۔
نائجل چیپمین نے لکھا ہے ’مجھے اپنے رپورٹر کی گمشدگی کے حوالے سے سخت تشویش ہے اور میں آپ (وزارت داخلہ) سے اس کی جلد از جلد بازیابی کی درخواست کرتا ہوں۔ میں اس سلسلے میں آپ کی مدد کے لیے شکرگزار ہوں گا‘۔
بی بی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں دلاور خان وزیر کی سلامتی کے بارے میں تشویش ہے۔ ہم فوری طور پر اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں اور پاکستان کی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ دلاور کا پتہ لگانے کے لیے ہماری ہر ممکن مدد کریں‘۔