Tuesday, 21 November, 2006, 12:23 GMT 17:23 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے قومی اخبارات نے جنوبی وزیرستان میں بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کی گمشدگی کی خبر نمایاں طور پر شائع کی ہے۔
سب سے نمایاں خبریں انگریزی روزنامہ ڈان اور اردو اخبار ’دی ایکسپریس‘ نے شائع کی ہیں۔ ڈان کے صفحہ اول پر یہ خبر سب سے اوپر دائیں جانب لگائی گئی ہے۔ اخبار میں یہ جگہ اہم ترین خبروں کودی جاتی ہے۔ اس سنگل کالم خبر میں دلاورخان وزیر کی تصویر بھی ہے۔
ڈان کے رپورٹر نے اپنے طور پر خبر فائل کی ہے جس میں دلاور خان وزیر کو تلاش کرنے کے سلسلے میں بی بی سی اور ڈان کے کارکنوں کی مشترکہ کوششوں کا ذکر ہے۔ دلاور خان وزیر بی بی سی کے علاوہ ڈان کے لیے بھی کام کرتے تھے۔
ڈان کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری داخلہ اور دیگر حکام نے ڈان کے دفتر فون کرکے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ گمشدہ صحافی کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
روزنامہ ایکسپریس نے صفحہ اول پر تین کالم کی خبر ان کی تصویر کے ساتھ شائع کی ہے۔ اس اخبار کی سرخی میں دلاورخان کے اغوا کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے اور فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ شوکت سلطان کا یہ جواب بھی کیچ لائن میں شامل ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’وزارت داخلہ سے معلومات حاصل کریں‘۔
![]() | |
| دلاور خان وزیر پیر کو اسلام آباد میں پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے |
روزنامہ انصاف میں گمشدگی کی خبر کے علاوہ صحافی تنظیم کے حوالے سے ایک دوسری دو کالم خبر ہے جس کی سرخی ہے۔
’بی بی سی کے نامہ نگار کو اغوا کیے جانے کا خدشہ: رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز‘۔
نوائے وقت میں صفحہ آخر کے اپر ہاف میں تصویر کے ساتھ خبر ہے
’بلوچستان کے لیے رپورٹنگ کرنے والا بی بی سی کا نامہ نگار پراسرار طور پرلاپتہ‘۔
روزنامہ جنگ، روزنامہ دن، خبریں نے صفحہ اول یا صفحہ آخر پر سنگل کالم کی خبریں لگائی ہیں اور کم بیش ملتی جلتی سرخی ہے۔ تقریبًا تمام خبروں میں صحافی تنظیموں کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
یہ تمام خبریں مانیٹرنگ ڈیسک کے حوالے سے ہیں یا پھر انٹرنیٹ سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے صفحہ سے لی گئی ہیں۔
ڈیلی ٹائمز نے صفحہ اول پر سرخ باڈر میں اپنے رپورٹر کے حوالے سے خبر دی ہے جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دلاور خان وزیر کا بھائی ذوالفقار اس وقت ایک صدمہ کی حالت میں ہے۔ اس خبر میں دلاور خان کے ایک بھائی کی پراسرار ہلاکت کی ذکر بھی کیاگیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نامعلوم خطرے کے پیش نظر دلاورخان وزیر ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوچکے تھے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ ’اگرچہ بی بی سی کی انتظامیہ نے دلاور خان وزیر کی گمشدگی کی باقاعدہ رپورٹ تو درج نہیں کرائی تاہم ملٹری اور سول انتظامیہ سے غیر رسمی رابطے کیے ہیں‘۔