Tuesday, 21 November, 2006, 12:00 GMT 17:00 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے لاپتہ صحافی دلاور خان وزیر کے حکومت اداروں کی تحویل میں ہونے کی تصدیق یا تردید کرنے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تاحال اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے کہ لاپتہ صحافی حکومتی تحویل میں ہیں یا نہیں۔
شیر پاؤ نے کہا کہ ’میں اس پوزیشن میں نہیں ہو کہ اس کی تصدیق کرسکوں کہ وہ (دلاور خان وزیر) حکومتی تحویل میں ہیں یا نہیں۔‘
آفتاب احمد شیرپاؤ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں اور ابھی تک انہیں دلاور خان وزیر کی پراسرار گمشدگی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دلاور خان وزیر گزشتہ روز اسلام آباد میں واقع اسلامی یونیورسٹی میں اپنے بھائی سے ملنے کے بعد واپس ڈیر اسماعیل خان جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔
اطلاعات کے وزیر مملکت نے کہا کہ جس طرح ایکسیڈنٹ کی خبر آئی ہے تو کچھ بھی ممکن ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ پمز کے بجائے کسی اور ہسپتال میں داخل ہوں یا کہ وہ چونکہ ڈیرہ اسماعیل خان جارہے تھے تو کسی اور ضلعی ہسپتال میں ہوں۔
طارق عظیم نے کہا کہ فی الوقت وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا لیکن بہت سارے امکانات ہوسکتے ہیں۔
ادھر اسلام آباد پولیس نے تھانہ سبزی منڈی میں دلاور خان کے بھائی ذوالفقار کی شکایت پر نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ڈی ایس پی جمیل ہاشمی جو اس مقدمے کی تفتیش کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
دلاور خان کی وفاقی دارالحکومت سے گمشدگی پر صحافی حلقوں میں بھی شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے دلاور خان وزیر کی گمشدگی کا ذمہ دار سرکاری ایجنسیوں کو قرار دیتے ہوئے ان کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔