Tuesday, 21 November, 2006, 18:32 GMT 23:32 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے خاندان نے بینک اکاونٹس منجمند کرنے کے حکومتی اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے بینکوں کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی پوتیوں، مس زمور ڈومکی اور زوازبو ڈومکی کے اکاونٹ منجمند کیئے جائیں۔ جو دونوں براہمداغ بگٹی کی بہنیں ہیں۔
براہمداغ بگٹی، نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد لاپتہ ہیں۔
مرکزی بینک نے پاکستان کی وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان دونوں خواتین کا تعلق بھی بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے، جو ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔
![]() | |
| اسٹیٹ بینک کے حکم نامے کا عکس |
اس سے دو ماہ قبل نواب اکبر کی دو بہنوں کے اثاثے منجمند کیئے گئے تھے۔
نواب اکبر کے بیٹے طلال بگٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خاندان کے تمام مردوں اور خواتین کے اکاونٹس منجمند کیئے گئے ہیں مگر انہیں تحریری طور پر الزامات سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں بینکوں کے ذریعے پتا چلا ہے کہ اکاونٹس منجمند کیئے گئے ہیں جس کو وہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کرینگے ۔
ایک سوال کے جواب میں طلال بگٹی نے کہا کہ ان کی جائیداد پر حکومت کا قبضہ ہے، جس طرح پاکستان کنگلے پن میں گزارہ کر رہا ہے اس طرح وہ بھی گزارہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ نے نواب اکبر کے داماد شاہد بگٹی کے اکاونٹس منجمند کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قردار دیا تھا۔