http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 21 November, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سمانہ

فوجی چھاونی سے سیاحت متاثر

اورکزئی ایجنسی کا علاقہ سمانہ بلند و بالا پہاڑوں اور حسین وادیوں کے کنارے پر واقع سب سے خوبصورت سیاحتی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

دفاعی اور تاریخی اہمیت کا حامل یہ علاقہ چند سال پہلے تک مقامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا لیکن بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی اور فوجی چھاؤنی کے قیام کے بعد سے یہ علاقہ آہستہ آہستہ لوگوں کی دلچسپی کھو رہا ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور کے جنوب مغرب میں ایک سو پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ سطح سمندر سے چھ ہزار سات سو کلومیٹر کے بلندی پر واقع ہے۔

سمانہ ایک پہاڑی اور سرسبز علاقہ ہے جس کی آبادی کئی دیہات پر مشتمل ہے۔

پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے سمانہ کی اپنی کوئی پیدوار نہیں۔ یہاں ہر سال اچھی خاصی برف باری ہوتی ہے اور گرمیوں میں اس کا موسم نہایت ہی خوشگوار ہوتا ہے جس کا مزہ لینے کےلیے لوگوں دور دراز کے علاقوں سے یہاں آتے ہیں۔

چند ہزار کی آبادی پر مشتمل اس علاقے میں سیاحوں کےلیے چار پانچ سیر گاہیں بنائی گئی تھیں لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے یہاں فوجی چھاؤنی بنی ہے اس کے بعد سے یہ چھوٹی چھوٹی سیر گاہیں عام لوگوں کے لیے بند کردیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے سیاحوں کی تعداد ہر سال کم ہوتی جا رہی ہے۔

ان چیک پوسٹوں پر ہر آنے اور جانے والی گاڑیوں کو روک کر اسے چیک کیا جاتا ہے اور سواریوں کے نام اور شناختی کارڈ نمبر کا اندراج بھی ہوتا ہے۔

سمانہ کے نام سے قائم یہاں کے واحد چھوٹا ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے محمد اسحاق نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا کہ پہلے گرمیوں کے موسم میں یہاں بڑی تعداد میں مقامی سیاح کوہاٹ، ہنگو، ٹل اور دیگر علاقوں سے آتے تھے لیکن جب سے یہاں فوجی چھاؤنی قائم ہوئی ہے اس کے بعد سے مقامی سیاحوں کا آنا کم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ فوجی کسی کو یہاں آنے سے منع نہیں کرتے لیکن چھاؤنی کی حدود میں گاڑیوں کی چیکینگ اور ناموں کے اندراج وغیرہ کی وجہ سے لوگ کا آنا کم ہوتا جارہا ہے۔‘

تاہم سمانہ سے منتخب ہونے والے ایجنسی کونسلر کیپٹن ریٹائرڈ آزادگل اورکزئی اس بات کی تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’فوج کے آنے سے یہاں پر چھاؤنی بنی جس کی وجہ سے علاقے نے تھوڑی بہت ترقی کرلی ہے۔ آج جو چھاؤنی کی حدود میں ہرے بھرے درخت نظر آتے ہیں اور جو امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے یہ تو سب فوج کے آنے کی وجہ سے ہوا ہے۔‘

مقامی لوگ پینے کا پانی قدرتی چشموں سے حاصل کرتے ہیں جو دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں۔پہاڑوں کے ڈھلوانوں میں واقع ان چشموں سے پانی لانے کا کام یہاں کی خواتین کرتی ہیں۔

غربت اور پسماندگی کے باعث اس علاقے کے لوگ زیادہ تر خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کےلیے جاتے ہیں۔ سمانہ میں شاہد ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جس کا کوئی فرد بیرونی ممالک میں کام نہ کرتا ہو۔

سمانہ کے ایک رہائشی میشل خان نے بتایا کہ اب تو خلیجی ممالک میں بھی بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور وہاں پر بھی ہمارے لوگوں کےلیے نوکریوں کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔

گلستان اور سانگر قلعوں کے نام سے مشہور انگریزوں کے دور کے ان تاریخی قلعوں کی چھتیں گر چکی ہیں اور صرف دیواریں باقی ہیں جو اب دیکھنے کے قابل بھی نہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برطانوی سلطنت نے یہ قلعے اورکزئی جنگجو قبائل سے نمٹنے اور افغانستان کا علاقہ جو یہاں سے قریب ہی پڑتا ہے کا دفاع کرنے کےلیے بنائے تھے۔

1892 میں برطانوی فوج اور مقامی قبائل کے مایبن سمانہ کے مقام پر ایک خون ریز لڑائی بھی ہوئی تھی جس میں انگریزوں کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔