Sunday, 19 November, 2006, 17:00 GMT 22:00 PST
پاکستان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا ہے کہ پاکستانی مدارس کو تعلیم و تربیت اور نصابی معاملات میں حکومت سمیت کسی بھی ملکی یا غیر ملکی طاقت سے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل نے یہ بیانات برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کے دورۂ پاکستان کے دوران اس اعلان کے ردعمل میں دیئے ہیں جس میں برطانوی وزیرِ اعظم نے ملک میں مذہبی اعتدال پسندی پھیلانے کے لیے حکومتِ پاکستان کی مالی امداد کو دگنا کرنے اعلان کیا ہے۔
اس رقم کو مدارس کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے اور انتہا پسند مذہبی تعلیمات کو ختم کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔
قاری حنیف نے اسے برطانیہ کی طرف سے پاکستانی مدارس کے تعلیمی طریقۂ کار اور نصاب میں دخل اندازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا برطانوی حکومت پاکستانی مدارس کو بھی اس بات کا حق دے گی کہ وہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں تبدیلی کی بات کریں؟
قاری حنیف نے کہا کہ ’ایسے خیالات لاعلمی پر مبنی ہیں کیونکہ ہمارے دینی مدارس میں جہاں قران و سنت، فقہہ اور دینی علوم کی تعلیم ہے وہیں عصری تعلیم بھی ہے اور ہمارے ہاں انگلش، سائنس اور ریاضی بھی ایک حد تک پڑھائے جاتے ہیں‘۔
وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ ’مدارس خصوصی تعلیمی ادارے ہیں۔ دنیا کے ہر ملک کے اندر مختلف ادارے ہوتے ہیں اور ان میں بعض ادارے مذہبی بھی ہیں۔ حتیٰ کہ برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں بھی خصوصی طور پر مذہبی ادارے موجود ہیں۔ چنانچہ ان کا عام تعلیمی نصاب سے کچھ حد تک مختلف ہونا ایک فطری عمل ہے‘۔
انہوں نے پاکستانی مدارس میں جہاد کے نام پر دہشت گردی کی تربیت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے مدارس کا بنیادی مقصد دینی علوم اور قرآن و حدیث کی مہارت ہے۔ جہاں تک جہاد کی بات ہے تو جہاد ہمارے دین کی ایک بنیاد ہے اس لیے ہم جہاد کی تعلیم دیتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی مدارس نے آج تک کبھی بھی کسی ملک کے خلاف اس طرح کی کوئی تعلیم نہیں دی ہے۔ جہاد کا مفہوم سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جہاد ایک الگ چیز ہے اور دہشت گردی ایک الگ چیز ہے۔ آپ یہ سوال صدر مشرف سے کریں کہ تمام پاکستانی چھاؤنیوں پر لکھا ہوا ہے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیلِ اللہ۔ اس جہاد سے کیا مراد ہے‘؟
وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل قاری محمد حنیف جالندھری نے اس بات پر زور دیا کہ جہاد کی صحیح معنوں میں تشریح کرنے کی ضرورت ہے اور مغرب کو اس کا مفہوم مسلمانوں سے سمجھنا چاہیئے۔
جہاد کی تعریف بتاتے ہوئے قاری حنیف نے کہا کہ ’جہاد کے بہت سے مفہوم ہیں۔ جہاد غربت، جہالت اور بے روز گاری کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ ظلم کے خلاف بھی جہاد کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی آپ کا حق چھین رہا ہے، آپ پر حملہ کر رہا ہے، آپ کی زمین یا آپ کے ملک پر قبضہ کر رہا ہے تو اس وقت مجبوری کے درجے میں آپ کو اپنا دفاع کرنا ہے۔ اس دفاع کا نام ہمارے ہاں جہاد ہے۔ مغربی ممالک میں بھی یہ چیزیں موجود ہیں مگر نام کچھ اور ہو گا‘۔
وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل نے یہ بھی بتایا کہ انہیں مدارس کے نصاب کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی ہدایات نہیں ملیں۔