Friday, 17 November, 2006, 08:15 GMT 13:15 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا ہے اور اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کے مطابق وہ برطانیہ روانہ ہو گئے ہیں۔
ترجمان ایڈن لڈل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مرزا طاہر حسین برطانیہ روانہ ہو گئے ہیں لیکن انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ وہ کس شہر سے برطانیہ کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ دیگر ذرائع کے مطابق وہ لاہور سے لندن کی پرواز پر روانہ ہوئے ہیں۔
اس سے قبل وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے ان کی رہائی کی تو تصدیق کردی تھی لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں برطانوی ہائی کمیشن کے حوالے کردیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
جب برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان ایڈن لڈل سے رابطہ کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتا سکتے۔
جب ان سے کہا کہ اطلاعات ملی ہیں کہ مرزا طاہر حسین کو رہا کرنے کے بعد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے برطانیہ کے لیے روانہ کردیا گیا ہے تو اس پر بھی انہوں نے کہا کہ وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے۔
مرزا طاہر حسین کو، جو ایک ٹیکسی ڈرائیور جمشید خان کے قتل کے الزام میں گزشتہ اٹھارہ برس سے جیل میں بند تھے، سزائے موت سنائی گئی تھی۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعرات کے روز ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ ایوان صدر کے ایک سینئر افسر نے صدر کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیراعظم کی سفارش پر صدر نے مختلف عدالتوں کی جانب سے مختلف نتائج اخذ کرنے، طویل مدت تک قید رہنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسا کیا تھا۔
وزیراعظم کے پریس سیکریٹری جاوید اختر نے بھی صدر کی جانب سے مرزا طاہر حسین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی تصدیق کی تھی لیکن مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا۔
صدر کا یہ فیصلہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے پاکستان پہنچنے سے تین روز قبل سامنے آیا ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا تھا کہ اٹارنی جنرل کی مشاورت کے بعد وزیراعظم نے صدر کو سفارش کی تھی کہ مرزا طاہر کی سزا عمر قید میں تبدیل کی جائے۔ حکام کے مطابق ملزم کی رہائی کسی بھی وقت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ برطانوی حکومت اور انسانی حقوق کے کئی اداروں نے بھی طاہر حسین کی موت سزا پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی تھی۔
مرزا طاہر حسین ٹیکسی ڈرائیور کے قتل سے انکار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے ان سے جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ ملزم مرزا طاہر حسین کی اپیل سپریم کورٹ رد کرچکی ہے اور صدر نے بھی ان کی رحم کی اپیل پہلے مسترد کردی تھی اور ان کی پھانسی پر چار بار عمل درآمد روک دیا تھا۔
ادھر مقتول ڈرائیور کے چچا صحبت خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صدر کے فیصلے کو پاکستانی عدالتوں کی توہین قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں قانونی چارہ جوئی کے لیے اپنے وکیل سے مشاورت کریں گے۔
یاد رہے کہ مرزا طاہر کو معاف کرنے کے لیے مقتول کے اہل خانہ کے پاس حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور کئی جرگے گئے تھے۔ اہل خانہ کو خون بہا دینے سمیت مختلف مراعات کی پیشکش بھی کی گئی تھی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا تھا۔