http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 16 November, 2006, 20:17 GMT 01:17 PST

ذیشان حیدر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

استعفوں کا فیصلہ 6 دسمبر کو

مولانا فضل الرحمان نے تحفظِ حقوقِ نسواں بل کی منظوری پر مستعفی ہونے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیئے ایم ایم اے کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چھ دسمبر کو بلانے کا اعلان کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ اسلام آباد میں ایم ایم اے کی سپریم کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی غیر معمولی طوالت کی بناء پر ان قیاس آرائیوں نے بھی جنم لیا کہ استعفوں کے معاملے پر جماعتِ اسلامی اور جمیعت العلمائے اسلام میں اختلاف پایا جا رہا ہے تاہم پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے ایم ایم اے کی تمام جماعتوں کا متفقہ بیان پڑھ کر سنایا۔

مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ متحدہ مجلس عمل نے قومی اسمبلی میں قرآن و سنت کے منافی نام نہاد حقوقِ نسواں بل پاس کیئے جانے پر استعفے دینے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیئے ایم ایم اے کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس چھ اور سات دسمبر کو ہو گا جس میں استعفے دینے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس اعلان پر جماعتِ اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ مستعفی ہونے کا متفقہ فیصلہ ہو گیا ہے اور جب آئندہ اسمبلی کا اجلاس ہوگا تو استعفے دے دیئے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بقا کے لیئے میدانِ عمل میں اترنا وقت کی ضرورت ہے اور عالمِ اسلام اور خصوصاًً پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی بمباری اور قتلِ عام ایک ایسا مجرمانہ فعل ہے جس کے خلاف قوم کا یکجا ہونا ناگزیر ہے۔

حافط حسین احمد کے استعفی سے متعلق ایک سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ان کا استعفی ہمارے پاس ہے اور وہ پارٹی کے فیصلے کے پابند ہیں‘۔ بلوچستاں اسمبلی سے مستعفی ہونے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا کہ اس اجلاس میں صرف قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا متفقہ فیصلہ ہوا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ اسمبلیوں سے مستعفی ہونا ایک مرحلہ وار عمل ہے اور ہمیں مرحلہ وار چلنے دیا جائے۔