Wednesday, 15 November, 2006, 15:55 GMT 20:55 PST
اشعر رحمن
لاہور
قومی اسمبلی نے تحفظ حقوق خواتین بل منظور کر لیا ہے اور اسے پرویز مشرف اور ان کے روشن خیال پاکستانی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اس بات کو نظر میں رکھتے ہوئے اور پھر پاکستان کے معروضی حالات کو بھی پوری طرح سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جانا چاہیئے کہ 1979 میں نافذ شدہ خواتین مخالف قانون میں اب 27 سال بعد تبدیلی کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ مگر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اکثر کارکنان اس تبدیلی سے آگے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے لیے صرف ترمیم کافی نہیں ہے وہ ضیا الحق کے قانون کا جڑ سے خاتمہ چاہتے ہیں۔
ویمن ایکشن فورم اور شرکت گاہ این جی او سے تعلق رکھنے والی محترمہ خاور ممتاز کہتی ہیں کہ ’ریلیف تو ریلیف ہوتا ہے۔ لیکن یہ ترامیم جن کی منظوری آج اسمبلی نے دی ہے ہماری آخری منزل نہیں ہے۔ ہم اس قانون سے مکمل چھٹکارا چاہتے ہیں‘۔
خاور ممتاز اپنے الفاظ میں اس نکتہ کا اعادہ کرتی سنائی دیتی ہیں جس نے پچھلے کچھ ماہ میں پاکستان کے روشن خیال حلقوں کو متحد کیے رکھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ایک قانون مکمل طور پر کالعدم قرار نہ دیا جائے، ترامیم کے باوجود اس کا essence موجود رہتا ہے۔
پاکستان میں روشن دماغ خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد کا یہی خیال ہے۔ کہیں یہ افراد گزشتہ 27 سال میں اس قانون کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں اور کہیں اپنی (campaign) کو عالمی سطح پر مروجہ اصولوں پر منظم کرتے ہیں۔ ان کے کام کرنے کا انداز چاہے جو بھی ہو اور وہ تمام اصحاب اکرام جو این جی اوز میں کام کرنے والوں سے ہمیشہ خفا رہتے ہیں چاہے جو بھی فتویٰ صادر کریں یہ بات طے ہے کہ (activism) میں پڑاؤ تو ہوتے ہیں، آخری منزل کوئی نہیں ہوتی۔
خواتین کے تحفظ کے لیئے منظور شدہ بل بہرحال ایک مثبت قدم ہے یہ اور بات ہے کہ سیاست کے شیدائی اس موقع کو اپنے اپنے پوائنٹ سکور کرنے کے لیئے استعمال کرنا چاہیں گے۔ مثال کے طور پر یہ کیا کم مزیدار بات ہے کہ وہ لوگ جو 27 برس پہلے ضیاء کے ہر اول دستے میں شامل تھے آج جنرل مشرف کے جھنڈے تلے ایک روشن خیال پاکستان کے داعی و متمنی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا اس موقع پر حکومتی پارٹی کا ساتھ دینا بھی چٹ پٹی سیاست کے پیروکاروں کے لیئے ایک نہایت زبردست موضوع ہے۔ رہ گئی ایم ایم اے تو جہاں ملا کا عمل دخل پاکستان کی سیاست میں بڑھا ہے وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ مولویوں سے چھیڑ چھاڑ اب بھی ہمارے انتہائی پسندیدہ مشاغل میں سے ایک مشغلہ ہے۔ تو پھر مزا تو لازمی آئے گا۔
یہ بات بلا ہچکچاہٹ کہی جا سکتی ہے کہ مشرف حکومت کو پارلیمنٹ سے قانونی حیثیت دلوانے کی بحث کے بعد خواتین کے حقوق کا یہ بل دوسرا ایسا بڑا موقع تھا جب ایم ایم اے پارلیمنٹ میں حکومت کے روبرو تھی۔ پچھلی بار بھی ایم ایم اے نے جنرل مشرف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
پچھلی بار پی پی پی جنرل صاحب کی مخالفت میں بولی تھی۔ اب کہ اس کے الٹ ہوا۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس 101 ایسے گر ہیں جو جب چاہے ’قابو‘ کرنے کے لیئے استعمال ہو سکتے ہیں۔