Wednesday, 15 November, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
حکومت کی جانب سے سندھ ٹی وی پر پابندی کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور اپوزیشن نے صوبائی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
وفاقی حکومت نے گزشتہ ہفتے جمعرات کو سندھ ٹی وی کی نشریات پر پابندی عائد کردی تھی۔
کراچی پریس کلب سے بدھ کو احتجاجی جلوس نکالا گیا، جس میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی ، سماجی تنظیموں کے کارکن، ادیب اور مقامی فنکار بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔
مظاہرین سندھ ’ٹی وی پر پابندی نامنظور، تیری آواز میری آواز سندھ ٹی وی ، مظلوم کی آواز سندھ ٹی وی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے گورنر ہاؤس پہنچے جہاں دھرنا دیا گیا۔
مظاہرین نے بعد میں سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دیا جہاں اپوزیشن نے کارروائی کا بائیکاٹ کر کے ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’سندھ ٹی وی انصاف کی تلاش میں‘ تحریر تھا، جبکہ کئی مظاہرین نے ہاتھوں میں لالٹینیں بھی اٹھائی ہوئیں تھیں۔
اپوزیشن اور صحافی تنظیموں کے رہنماؤں نثار کھوڑو، امین یوسف، خورشید عباسی اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ ٹی وی کی نشریات فوری طور بحال کی جائیں اور اس کی ٹیم کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
![]() | |
| کئی مظاہرین نے ہاتھوں میں لالٹینیں بھی اٹھائی ہوئی تھیں |
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کسی پروگرام پر اعتراض ہے تو قانونی راستہ اختیار کیا جائے وہ اپنے مطالبات وہاں لے کر جاسکتے ہیں۔
اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو نے حکومت سے سوال کیا کہ سندھ ٹی وی کا قصور کیا ہے، اس نے ماہی گیروں کے مسائل بتائے ہیں، اس نے باجوڑ میں حملے کی رپورٹ بتائی ہے اس لیئے اس پر ناراضگی کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ تنگ نظری ہے وہ جو عوام کی چھوٹی سی آواز بھی برداشت نہیں کرسکتی۔