Wednesday, 15 November, 2006, 19:08 GMT 00:08 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کی انتظامیہ نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو مدرسے پر بمباری میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کے لئے ایجنسی میں داخل ہونے نہیں دیاہے۔
سکیورٹی دستوں نے اے این پی کے کارکنوں کی جانب سے زبردستی ایجنسی میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے کے لئے لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔
باجوڑ میں گزشتہ دنوں مدرسے پر بمباری کے واقعے کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی نے بدھ کو متاثرین سے یوم یکجہتی منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں عوام سے جلوس میں شامل ہونے کے لیے اخبارمیں اشتہارات بھی دیئے تھے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان کی سربراہی میں پارٹی کارکنوں کا ایک بڑا جلوس باجوڑ میں بمباری سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کے لیئے جانا چاہتا تھا لیکن اسے توقعات کے مطابق ضلع دیر سے باجوڑ میں داخلے کے مقام تور غنڈئی پر روک لیا گیا۔
جلوس کے شرکاء روکاوٹیں توڑتے ہوئے تقریباً ایک کلومیٹر آگے نکل گئے لیکن آگے سکیورٹی اہلکاروں نے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے چلائے اور ہوائی فائرنگ کی۔ اس افراتفری میں اسفندیار ولی معمولی زخمی بھی ہوگئے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے وہیں احتجاجی جلسہ اور ہلاک ہونے والوں کے لیئے دعاے مغفرت کی۔ اسفندیار کے علاوہ اے این پی کے صوبائی سربراہ بشیر بلور اور سیکریٹری جنرل میاں افتخار نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا اور حکومت کی طرف سے بمباری جیسے اقدامات کو ظلم قرار دیا۔
اس موقعہ پر اے این پی کے مشتعل کارکنوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی۔
اے این پی کے صوبائی سیکریٹری جنرل میاں افتخار نے واپسی پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوۓ اپنے ردعمل میں کہا کہ انہیں آج معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے ملک کے کسی حصے میں نہیں جا سکتے۔ ’شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کو وہاں جانے کی اجازت ہے ہمیں نہیں۔‘
یاد رہے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں پر حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے۔