Tuesday, 14 November, 2006, 14:03 GMT 19:03 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی حکومت نے مذہبی جماعتوں کی جانب سے اسمبلی سے مستعفی ہونے اور علماء کی جانب سے تحریک کی دھمکیوں کے بعد ان کی خواہش کے مطابق حقوق نسواں بل میں ترامیم کرلی ہیں۔
وفاقی وزیرِ قانون محمد وصی ظفر نے منگل کو علماء کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ترمیمی بل کا مسودہ قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرایا۔ پروگرام کے مطابق حکومت بدھ کو یہ بل ایوان میں پیش کرے گی اور جمعہ
کو منظور کرائے گی۔
شہوت پرستی (Lewdness) کے عنوان سے شامل کردہ نئی شق میں کہا گیا ہے کہ غیر شادی شدہ جوڑا اگر جان بوجھ کر جنسی عمل کرے گا تو ایسا کرنے والے کو پانچ برس تک قید اور دس ہزار روپے تک کا جرمانے کی سزا ہوگی۔
اس طرح کا جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی وہ ہی سزا ہوگی جو جرم کرنے والے کو ہوگی۔ نئے قانون کے تحت جھوٹا الزام لگانے والے کے خلاف جج انہیں سات دن میں سزا دینے کا پابند ہوگا۔ ترمیمی بل کے مطابق شہوت پرستی کی شکایات کی صورت میں نامزد عدالت کے سوا کوئی اور عدالت کارروائی کی مجاز نہیں ہوگی۔ اس طرح کے مقدمے میں جج شکایت کنندہ اور کم از کم دو گواہوں کا بیان حلفی لے گا جس پر ان کے دستخط بھی ہوں گے۔
ترمیمی بل کے مطابق جس جج کے پاس شکایت درج ہوئی ہے یا جس کے پاس کیس منتقل کیا گیا ہو اگر شکایت کنندہ اور گواہوں کے بیان حلفی کے بعد بھی سمجھے کہ کارروائی کرنے کے لیئے مناسب جواز نہیں ہیں تو وہ شکایت کو رد کرنے کا مجاز ہوگا لیکن جج کو اس کی وجوہات تحریر کرنی ہوں گی۔
نئے ترمیمی بل میں وضاحت کی گئی ہے کہ زنا کے مقدمات میں شہوت پسندی کی یہ شق نافذ نہیں ہوگی۔ زنا کے مقدمے میں ملزم کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جاسکے گا لیکن شہوت پسندی یا زنا بالرضا کے مقدمے میں ملزم کو ورانٹ کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکتا جبکہ زنا بالرضا کی جھوٹی گواہی یا الزام لگانے والے کو بھی بغیر وارنٹ گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔
دوران سماعت زنا باالرضا کا مقدمہ ریپ یعنی زنا کے مقدمے میں بدلا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ زنا یعنی ریپ کے جرم میں سخت سزا تجویز کی گئی ہے لیکن ریپ یا زنا کا مقدمہ کسی سطح پر بھی زنا بالرضا کے مقدمے میں تبدیل نہیں ہوسکے گا۔
حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی اور حکومتی اتحاد میں شامل متحدہ قومی موؤمنٹ نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت نے علماء کمیٹی کی شق بل میں شامل کی تو وہ اس کی مخالفت کریں گے لیکن اب ان جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ابھی غور کر رہی ہیں اور بل کا مسودہ پڑھنے کے بعد ہی وہ اپنا موقف دیں گے۔
ترمیمی بل میں علماء کی تجویز کردہ شق شامل کرنے کے باوجود بھی وزیر قانون وصی ظفر کا کہنا ہے کہ یہ بل سلیکٹ کمیٹی والا ہے۔