Tuesday, 14 November, 2006, 15:45 GMT 20:45 PST
ذیشان حیدر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی تحفظ حقوقِ نسواں بل کی منظوری کا معاملہ زور پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے حالیہ اجلاس میں بل منظور کرائے جانے کا دعویٰ ہے جبکہ متحدہ مجلس عمل بل کی مخالفت کر رہی ہے اور اس کی منظوری کی صورت میں اسمبلی سے مستعفی نے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
پاکستان کی مذہبی جماعتیں تحفظ حقوقِ نسواں بل کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتی آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بل کا اصل مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ ملک میں فحاشی کو فروغ دینا ہے۔ اس کے برعکس حکومت کا کہنا ہے کہ اس بل کی کوئی شق اسلام سے متصادم نہیں۔
حدود آرڈیننس کے متنازعہ معاملہ پر بحث جنرل مشرف کے دور میں پہلی دفعہ تب بھڑکی جب خواتین کی حیثیت پر جسٹس (ر) ماجدہ رضوی کی سربراہی میں ایک قومی کمیشن بٹھایا گیا۔
اس کمیشن نے حدود قوانین کو غیر اسلامی قرار دیا جس کے نتیجے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے مارچ سنہ دو ہزار چھ میں حدود قوانین پر نظر ثانی شروع کی۔
تین ماہ میں حدود قوانین کے متنازعہ نکات کی نشاندہی کر کے نظریاتی کونسل نے ماہ جون میں اپنی سفارشات وزارت قانون کو بھجوا دیں۔
اگست کے آخر میں حکومت نے قومی اسمبلی میں تحفظِ حقوقِ نسواں کے نام سے ایک ترمیمی بل پیش کیا جس کی وجہ سے حکومت اور مذہبی جماعتوں میں باقاعدہ ٹھن گئی۔
![]() | |
| ہومذہبی جماعتوں نے حدود بل کے یق میں مظاہروں کا بندوبست کیا۔ |
متحدہ مجلس عمل کے اس ردعمل پر حکومت نے بل پر بحث کے لیے پیپلزپارٹی کی تجویز پر ایوان میں پچیس رکنی سلیکٹ کمیٹی بنائی جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے چار چار اراکین کو نامزد کیا گیا۔تاہم متحدہ مجلس عمل نے اس کمیٹی میں شمولیت سے انکار کر دیا۔
سلیکٹ کمیٹی کی سفارشات اس سال چار ستمبر کواسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔متحدہ مجلس عمل اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس ترمیمی بل کی بھی شدید مخالفت کی اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
اس موقع پر حدود بل کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔پیپلز پارٹی نے سلیکٹ کمیٹی کے تیار کردہ بل کی مخالفت نہیں کی۔
تاہم حکومت نے اس موقع پر ترمیمی بل کو ایوان میں اتفاقِ رائے سے منظور کرانے کے ارادے کا اعلان کر دیا۔
علماء کمیٹی کی سفارشات کے بعد ایک مرتبہ تو یوں لگا کہ بل ایوان سے متفقہ طور پر منظور ہو جائے گا لیکن سیاست میں کچھ حرفِ آخر نہیں ہوتا اور یہی ہوا۔
حکومت کی حامی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی نے ان سفارشات کو رد کرتے ہوئے صرف سلیکٹ کمیٹی کے بل کی حمایت کا اعلان کیا۔
دوسری طرف متحدہ مجلس عمل نے بھی وزارتِ قانون کی جانب سے تیار کردہ نئے ترمیمی مسودے کو نہ صرف ناقص قرار دیا بلکہ وزارتِ قانون پر بدنیتی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس مسودے میں وہ ترامیم شامل نہیں جن کی سفارش علماء کمیٹی نےکی تھی۔
اس دوران متحدہ مجلس عمل پر ’فرینڈلی اپوزیشن‘ کا کردار ادا کرنے اور حدود بل پر بحث مباحثے کےذریعے بلوچ سردار نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے معاملے کو دبانے کے الزامات بھی عائد کیئے گئے جن کی ایم ایم اے کے رہنماؤں نے پر زور تردید کی۔
ماہِ رمضان کی آمد اور قومی اسمبلی کے اجلاس کے التواء پر حدود بل میں ترامیم کا معاملہ چند ہفتوں کے لیے ٹھنڈا پڑگیا۔لیکن متحدہ مجلس عمل کی جانب سے بل کی منظوری کی صورت میں اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کے دعوے کیے جاتے رہے۔جبکہ حکومتی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن بھی بل کی منظوری کے حوالے سے بیانات داغتے رہے۔
اب جبکہ یہ بل ایک مرتبہ پھر ایوان کے ایجنڈے پر ہے اور وزراء کے بیانات کے مطابق حکومت اسے حالیہ اجلاس میں بہرصورت منظور کروانے کا ارادرہ بھی رکھتی ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار تحفظ حقوقِ نسواں بل کی بیل منڈھے چڑھ پاتی ہے یا ایک مرتبہ پھر خواتین کے حقوق کا معاملہ کسی سیاسی مصلحت کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔