Friday, 10 November, 2006, 16:34 GMT 21:34 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ ہائی کورٹ کے اپیلٹ بینچ نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی مبینہ سازش کرنے کے الزام میں سزا پانے والے ملزموں کے خلاف مقدمے کی ازسرِ نو سماعت کا حکم دیا ہے۔
مبینہ عسکریت پسند تنظیم ’حرکت المجاہدین العالمی‘ کے امیر محمد عمران اور ان کے دو ساتھیوں محمد حنیف اور محمد اشرف کو اس مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے دس دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔
ملزموں نے سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔
جسٹس رحمت حسین جعفری اور جسٹس یاسمین عباسی پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے مقدمے کی سماعت کرنے والی ماتحت عدالت کو ملزموں کے خلاف الزامات نئے سرے سے ’فریم‘ کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
پولیس کے مطابق زیر حراست افراد نے دوران تفتیش بتایا کہ انہوں نے صدر مشرف کی ’افغان پالیسی‘ سے اختلاف کر تے ہوئے حرکت المجاہدین العالمی کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے۔
پولیس کا دعویٰ تھا کہ ملزموں نے انکشاف کیا کہ صدارتی ریفرنڈم کے سلسلے میں صدر مشرف کے دورہ کراچی کے دوران ان کے راستے کے ساتھ بارود سے بھری ایک گاڑی کھڑی کی گئی، لیکن اس کے الیکٹرک سوئچ کے بروقت کام نہ کرنے کی وجہ سے دھماکہ نہ کیا جا سکا۔
پولیس کے بقول اسی گاڑی کو ملزموں نے بعد میں امریکی قونصل خانے پر خودکش حملے میں استعمال کیا۔ اس حملے میں چودہ لوگ ہلاک ہوئے تھے، جن میں کو ئی غیر ملکی شامل نہیں تھا۔
یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ اس سے قبل حرکت المجاہدین العالمی کے امیر محمد عمران ، نائب امیر محمد حنیف ، محمد شارب اور حافظ زبیر کو امریکی قونصل خانے پر خودکش حملہ کرنے کے الزام سے بری کر چکی ہے۔