Friday, 10 November, 2006, 13:53 GMT 18:53 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
جامشورو کے نزدیک کیڈٹ کالج پٹارو کی انتظامیہ نے تصادم کے بعد سفر گوٹھ کو خالی کروالیا ہے۔
جمعرات کی شام کالج کی قریبی زمین پر کالج انتظامیہ اور گاؤں والوں میں تصادم میں کالج کے پرنسپل کموڈور عابد سلیم اور وائس پرنسپل میجر رانا ضیاء سمیت سات افراد زخمی ہوگئے تھے۔
کیڈٹ کالج پٹارو کے ترجمان لیاقت رضوی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی ہدایت پر پولیس نے یقین دہانی کروائی تھی کہ جمعہ کی شام تک گاؤں خالی کروایا جائےگا۔
ٹی پی او جامشورو نے بتایا کہ کالج انتظامیہ نے اپنے طور پر گاؤں خالی کروایا ہے، پولیس وہاں صرف موجود رہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ گاؤں والوں کو خاصخیلی برداری کے ایک اور گاؤں میں منتقل کیا گیا ہے۔
سفر گوٹھ کے معزز اسلم خاصخیلی نے بتایا کہ صبح سویر چار بجے کالج انتظامیہ کے لوگوں نے ان سے گاؤں خالی کروایا، جبکہ پولیس کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔
![]() | |
| پٹارو کالج کے زخمی پرنسپل |
جمعرات کو ہونے والے تصادم کے بارے میں کیڈٹ کالج کے ترجمان لیاقت رضوی نے بتایا کہ کالج کے باہر زمین پر معمول کا تعمیراتی کام جاری تھا کہ سفر گوٹھ سے مسلح افراد نے حملہ کردیا، جس میں کالج کے پرنسپال کمانڈر عابد سلیم، میجر رانا ضیا، محمد ریاض ، محمد مشتاق، عبداللہ ، محمد حسن اور شیر عباس زخمی ہوگئے۔ جن میں سے محمد عباس اور شیر عباس سویلین ملازم ہیں۔
سفر گاؤں کی معزز شخصیت محمد اسلم خاصخیلی نے ٹیلی فون پر بتایا کہ پرنسپل عابد سلیم نے پہلے گھر پر آکر فائرنگ کی، اس کے بعد وہ کیڈٹ لیکر آئے، جنہیں وہ گاؤں کے بیچ سے چکر لگاوا کرگئے، اس کے بعد انہوں نے گاؤں گرانے کی کوشش کی جس پر جھگڑا ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، نہ ہی ان کے لوگوں نے گولی چلائی ہے فوجی اپنی گولیوں سے خود زخمی ہوئے ہیں جبکہ گاؤں کے تین لوگوں کریم بخش، عباس علی اور بشیر کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔
گاؤں کے معزز خاضخیلی |
کالج کے ترجمان نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جس زمین پر کام جاری ہے وہ کالج کی ملکیت ہے، جو سندھ حکومت نے انہیں دی تھی۔
جام شورو پولیس نے دس افراد پر حملے کا مقدمہ دائر کرکے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ گاؤں والوں اور کالج انتظامیہ میں زمین کے حق ملکیت پر طویل عرصے سے تنازعہ چل رہا ہے۔