http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 09 November, 2006, 15:20 GMT 20:20 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حکومتی تائید کے لیے وزراء کی ٹیم

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور ’باجوڑ حملے‘ کے بعد حکومت اور فوج کے مؤقف کو بھرپور طریقے سے پیش کرنے میں ناکامی کا نوٹس لیتے ہوئے بعض وفاقی اور صوبائی وزراء پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو اہم معاملات پر میڈیا کے ذریعے عوامی حمایت حا صل کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ فیصلہ بدھ کے روز صدر مشرف کی صدارت میں ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔ ٹیم میں وفاقی وزراء خورشید محمود قصوری اور شیخ رشید احمد کے علاوہ سندھ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء عرفان اللہ مروت اور نادر اکمل لغاری شامل ہیں۔

اجلاس میں شریک وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن اسحاق خان خاکوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کے متعلقہ ادارے اہم واقعات کے بارے میں ضروری معلومات فوری طور پر مذکورہ ٹیم کو فراہم کریں گے جو حکومتی موقف کی حمایت میں بیانات جاری کرے گی۔

اسحاق خاکوانی نے اس تاثر کی تردید کی کہ صدر نے اجلاس کے شرکاء کی ’باجوڑ‘ اور ’بگٹی‘ کے واقعات پر بھرپور حکومتی تائید نہ کر پانے پر ڈانٹ ڈپٹ بھی کی۔ ان کا کہنا تھا ’صدر کا رویہ خاصا دوستانہ اور ایک ٹیم کے سربراہ کی طرح کا تھا‘۔

وزیر مملکت کے مطابق صدر نے اجلاس میں واضح کیا کہ حکومت ’حقوق نسواں بل‘ کے معاملے پر مذہبی جماعتوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گی اور یہ بل ہر صورت میں منظور ہوگا۔

اسحاق خاکوانی کے مطابق صدر نے کا کہنا تھا کہ جو حدود قوانین اس وقت ملک میں نافذ ہیں ان کی کئی شقیں اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں اور حکومت کا تیارکردہ ترمیمی بل اسلام کے عین مطابق ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ صدر نے واضح کیا کہ مجلس عمل والوں نے اگر استعفے دیئے تو حکومت ضمنی انتخاب کروا لے گی، نہ اسمبلی ٹوٹے گی اور نہ ہی حکومت ختم ہوگی۔