http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 09 November, 2006, 07:24 GMT 12:24 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد

سندھ میں تیرہ ماہ سے لاپتہ دو قوم پرست رہنماؤں مظفر بھٹو اور ستار ہکڑو کو تیرہ ماہ کے بعد گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔

دونوں کا تعلق قوم پرست جماعت جیئے سندھ متحدہ محاذ سے ہے۔

جام شورو پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان تخریب کاری کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں، اور ان سے دو پستول اور دھماکہ خیز مادہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق قوم پرست رہنماؤں کو دریائے سندھ سے قریبی گزرنے والی گیس پائپ لائین کو بم سے اڑانے کی کوشش کے دوران مزاحمت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

لاپتہ افراد پر خصوصی ضمیمہ

پولیس نے دونوں رہنماؤں کا حیدرآباد میں قائم انسداد دہشتگردی کی عدالت اور سول کورٹ کوٹڑی سے ریمانڈ بھی حاصل کرلیا ہے۔

مظفر بھٹو جام شورو پاور ہاؤس میں سب انجینیئر سمیت ملازمین کی یونین کے بھی رہنما تھے۔ وہ قوم پرست پارٹی جیئے سندھ متحدہ محاذ کے مالیاتی سیکرٹری بھی تھے۔
مظفر بھٹو
مظفر بھٹو جام شورو پاور ہاؤس میں سب انجینیئر سمیت ملازمین کی یونین کے بھی رہنما تھے۔

مظفر بھٹو کے بھائی سکندر بھٹو نے پاکستان میں لاپتہ افراد پر بی بی سی کے خصوصی پروگرام میں بتایا تھا کہ ان کے بھائی کواکتوبر دو ہزار پانچ میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

سکندر بھٹو کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں نے جیئے سندھ متحدہ محاذ کے خلاف کوئی آپریشن شروع کیا اور اس میں ان کے بھائی اور اس کے کچھ ساتھیوں کو دہشت گرد کہا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں جیئے سندھ متحدہ محاذ کے چھ رہنماؤں کو عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے، جن میں سے دو کی گرفتاری بدین اور چار کی ضلع جامشورو سے ظاہر کی گئی ہے، ان تمام پر عائد کیے گئے الزامات میں یکسانیت ہے۔

نواز خان اور سکندر سومرو کو دھماکے سے پل اڑانے، احمد خان تیونو اور ذوالفقار خاصخیلی پر ریلوے ٹریک پر دھماکہ کرنے، اور ستار ہکڑو اور مظفر بھٹو پر گیس پائپ لائین کو بم سے اڑانے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔