Thursday, 09 November, 2006, 12:14 GMT 17:14 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان اور ہندوستان کی واہگہ کے قریب واقع سرحد پر پرچم اتارنے کی تقریب میں غصہ دکھانے کی روایتی ’ادائیں‘ اب کم کی جا رہی ہیں۔
بدھ کو ہونے والی تقریب میں پاکستانی اہلکاروں نے بار بار سر نہیں جھٹکا اور کمر پر ہاتھ رکھ کر غصے کا اظہار بھی نہیں کیا، جبکہ ہندوستانی بارڈر سکیورٹی اہلکاروں نے ایک روز قبل ہی اپنے غصیلے انداز میں کمی کر لی تھی۔
رینجرز کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ تبدیلی دونوں ملکوں کے درمیان جاری اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہیں۔
واہگہ بارڈر پر غروب آفتاب کے وقت دونوں ملکوں کے پرچم اتارے جانے کی تقریب ہر روز ہوتی ہے، جسے دیکھنے کے لیے دونوں اطراف کے لوگ بڑی تعداد میں اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس تقریب کے دوران پاکستان کے رینجرز اور ہندوستانی بی ایس ایف کے اہلکار پاؤں پٹختے آتے ہیں غصے سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور اپنا اپنا پرچم اتار کے لے جاتے ہیں۔
ملی نغمے، جوشیلے گانے اور مقابلے میں نعرے بازی اس تقریب کا خاص حصہ ہوتے ہیں۔
لیکن بدھ کو ہونے والی تقریب میں ایسا ہوا کہ دونوں اطراف کے اہلکاروں نے اپنے رویے میں ’لچک‘ پیدا کی اور کم از کم چہرے سے غصے کے تاثرات اور سر جھٹک کر ’پھنکارنے‘ کے انداز میں سانس نہیں نکالے۔
رینجرز کے ایک افسر نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ ہندوستانی بی ایس ایف کے افسران سے یہ طے ہوا ہے کہ دونوں طرف سے غصیلے موڈ جو دکھاوا کیا جاتا ہے اس میں تبدیلی لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام تو چاہتے تھے کہ پیر پٹخنے سے بھی اجتناب کیا جائے۔ ’لیکن ہمارے خیال میں زمین پر زور سے پاؤں مارنا تو فوجی پریڈ کا لازمی جزو ہے، جسے ختم نہیں کیا جاسکتا‘۔