Monday, 06 November, 2006, 13:34 GMT 18:34 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں ایک مدرسے پرگزشتہ ہفتے بمباری میں بچ جانےوالے تین زخمی نوجوانوں کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پشاورآمد کے ابتدائی دنوں میں ان تینوں سے نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے کوئی رابطہ کیا۔ لیکن بعد میں ذرائع ابلاغ میں ان افراد کی حیثیت کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کے بعد صوبائی وزیرصحت عنایت اللہ نے ان سے ملاقات کی اور انہیں صوبائی حکومت کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔
خیبرمیڈیکل سینٹر کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں مریض ہسپتال چھوڑ چکے ہیں البتہ انہیں نہیں معلوم وہ کہاں گئے ہیں۔
ریڈ کراس کے پاکستان میں ایک ترجمان رضا ہمدانی نے بی بی سی کو اسلام آباد سے بتایا کہ وہ صرف اتنی تصدیق کر سکتے ہیں کہ وہ ان مریضوں کےعلاج کا خرچہ برداشت کر رہے ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتے کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔
پشاورآمد کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے تینوں زخمیوں نےحکومت کے اس دعوی کو مسترد کیا تھا جس میں بمباری کے وقت ان کے ساتھ اس وقت غیرملکیوں کے موجود ہونے یاانہیں عسکری تربیت دیئے جانے کا الزام لگایا تھا۔
ان لوگوں نےبتایا تھا کہ وہ نا تو کبھی افغانستان گئے ہیں، نہ کبھی عسکری کارروائی میں حصہ لیا ہے اور نہ ہی ان کا تعلق کسی عسکریت پسند تنظیم سے ہے۔انہوں نے مدرسے میں کسی غیرملکی کے آنے جانے سے بھی انکار کیا تھا۔
ان بیانات کے بعد حکومت کے ان کے ساتھ رویے کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے تھے۔ ان کے بارے میں یہ پوچھا جانے لگا کہ اگر وہ معصوم ہیں تو حکومت ان کےعلاج معالجے میں مدد کیوں نہیں کرتی۔اگر وہ بھی مارے جانے والے دیگر لو گوں کی طرح شدت پسند تھے تو انہیں ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟
پاکستان فوج کے ترجمان کےاس بیان کے ایک روز بعد کہ ان کے خلاف مناسب وقت پر کارروائی ہوگی، تینوں کو کسی نامعلوم جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابھی یہ واضع نہیں ہوا ہےکہ وہ حراست میں ہیں یا انہیں صرف ذرائع ابلاغ کی نظروں سے دور رکھا جا رہا ہے۔