Monday, 06 November, 2006, 19:34 GMT 00:34 PST
پاکستان کی جیلوں اور پولیس حراست میں ہزاروں بچےہیں۔ یہ بچے بڑی عمر کے قیدیوں کی طرح ہی پاکستانی نظام انصاف کے شکار ہیں۔
ان جیلوں میں سات سال کی عمر تک کے بچے بھی برسوں سے قید ہیں جنہیں عدالت نے ابھی تک مجرم قرار نہیں دیا ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ’ ان بچوں کے معاملات پر سنجیدگی سےغور نہیں کیا جاتا کیونکہ ان کے لیے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے‘۔
پاکستانی قانون کے مطابق بچوں کوہتھکریاں نہیں لگائی جانی چاہیں لیکن ان بچوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں 18 سال عمر کےنوجوانوں کی تعداد کل آبادی کا نصف ہےاس کے باوجود یہاں بچوں سے متعلق صرف ایک عدالت ہے۔ کئی جگہوں پر بچوں کو بڑے لوگوں کے لیے مخصوص عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک جائزے کے مطابق ستر فیصد بچوں کو پولیس حراست کے دوران تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے۔ان کے مطابق پولیس حراست اور عدالتی تحویل کے دوران ان بچوں سے جنسی زیادتی بھی کی جاتی ہے۔
خادم نامی ایک بچے نے بتایا کہ ’ وہ لوگ مجھے پولیس سٹیشن میں کافی دیر تک مارت پیٹتےرہے۔ان لوگوں نے معلومات حاصل کرنے کے لیے میرے ساتھ زیادتی کی اور مارپیٹ تب بند کی جب میرے گھر والوں نےایک ماہ کی تنخواہ انہیں دی‘۔
اس وقت خادم کی عمر محض 14 سال تھی۔ پولیس نےاس پراور اس کے بھائی پر چوری کا الزام لگایا تھا۔
کراچی کی جیل کے بارے میں کام کرنے والے سابق جج ناصر زاہد کا کہنا ہے کہ یہاں 500 بچے تھے اور ان میں صرف 30 بچوں کو سزا ہوئی تھی باقی 470 بچے یوں ہی جیل میں تھے‘۔
اسی طرح نو جوان لڑکیوں کو بھی عورت قیدیوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے جو عام طور پر منثیات کی عادی ہو تی ہیں۔
ضیا اعوان کا کہنا ہے کہ مقدمات نمٹنے میں کافی دیر ہوتی ہے اور اس ادوران انہیں ان کے والدین سے رابطہ کرنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا اور دوسری طرف انہیں حکومت کی جانب سے بھی قانونی مدد نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا جب یہ بچے جیل سے باہر آئیں گے تو وہ مافیاؤں سےمل کر سماج مخالف حرکتوں میں ملوث ہوں گے۔